خطبات محمود (جلد 20) — Page 5
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء وعدہ کیا تھا کہ ضرور نئے احمدی بنائیں گے۔چنانچہ ان وعدوں کے مطابق یہ بیعت کے خطوط بھجوا رہے ہیں۔اسی طرح اگر سب دوست توجہ کریں اور ہمت کریں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں مگر جب یہ خیال کر لیا جائے کہ یہ دوسرے کا فرض ہے ہمارا نہیں تو پھر کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔قادیان کے جولوگ اپنے نام لکھوائیں تو چونکہ یہاں دوسرے لوگ بہت تھوڑے ہیں اس لئے وہ ساتھ ہی یہ ضرور لکھوائیں کہ کس کس گاؤں میں سے وہ احمدی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس سے ایک تو ہمیں یہ پتہ لگ جائے گا کہ کون کون سے گاؤں دوستوں کے مد نظر ہیں اور پھر پروگرام بناتے وقت ہم یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ کسی جگہ ضرورت سے زیادہ لوگوں کا وقت ضائع نہ ہو اور کام کو تقسیم کرنے کا اندازہ بھی کیا جاسکے گا اور اس میں بہت سہولت رہے گی۔اس لئے میں نے یہ رکھا ہے کہ دوست تعداد کے ساتھ جگہیں بھی بتا دیں۔ہاں اگر کوئی خاص جگہ کسی کے ذہن میں نہ ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ میں عام طور پر کوشش کروں گا یا مثلاً تصنیف کا کام کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا حلقہ اثر زیادہ وسیع ہو گا۔کیونکہ ہمیں براہِ راست لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے کا موقع نہیں ملتا۔مبلغین کے دورہ کے احمدی شمار نہیں کئے جائیں گے کیونکہ وہ ان کے نہیں بلکہ سلسلہ کے ہیں ان کا فرض ہو گا کہ وہ اپنی رخصت حاصل کر کے جس کا انہیں حق ہو تبلیغ کے لئے جائیں اور پھر اس عرصہ میں احمدی بنا کر اپنا وعدہ پورا کریں۔اگر اُن کے دورہ کے احمدیوں کو اُن کے کی وعدہ میں شمار کر لیا جائے تو یہ بالکل بے معنے بات ہوگی۔کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ مختلف مقامات کے احمدی لوگوں کو تیار کرتے رہیں لیکن ہمارا ایک مبلغ وہاں جا کر ایک آخری تحریکی کے بعد ان سے بیعت کا خط لکھا دے اور کہہ دے کہ دیکھو! میں نے پچاس احمدی بنائے ہیں۔ایسے احمدیوں پر اُن کا کوئی حق نہیں۔بلکہ یہ اُن جماعتوں کا حق ہے جو اُن کو تیار کرتی ہیں۔مبلغ تو کی ایسے موقع پر صرف پوسٹ آفس کے افسر کا کام کرتے ہیں کہ بیعت کے خطوط لے کر بھجوا دیتے ہیں۔اس لئے ان کو اپنے حق کی رخصت لے کر اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر صحیح طریق پر جماعت نے اس طرف توجہ کی تو عنقریب نیک نتائج پیدا ہوں گے۔ہندوستان میں بھی اور ہندوستان سے باہر بھی اور اگر اِس طرح ہر سال با قاعدہ کی