خطبات محمود (جلد 20) — Page 4
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء باہر کی جماعتیں ۲۸ فروری یعنی فروری کے آخر تک ایسی لسٹیں بھجوا دیں کہ ہر احمدی اس اس تعداد میں نئے احمدی بنانے کی کوشش کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر ہر سہ ماہی کے بعد یہ اطلاع بھی دیتے رہیں کہ یہ کوششیں کس حد تک کامیاب ہورہی ہیں۔قادیان میں انتظام زیادہ ہے۔یہ ایک ہی شہر ہے پھر یہاں کے لوگوں کے لئے اچھا نمونہ پیش کرنا بھی ضروری ہے۔اس لئے وہ ایک ہفتہ تک ایسی لٹیں مکمل کریں۔ہندوستان کی جماعتوں کے لئے میں نے قریباً دو ماہ کا وقت رکھا ہے اور ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے کی لئے قریباً تین ماہ رکھتا ہوں یعنی ۱/۱۰اپریل تک دو تین ہفتہ میں ان کو اطلاع پہنچ جائے گی۔دو تین ہفتہ جواب آنے کے لئے اور ایک ماہ فہرستیں تیار کرنے کے لئے۔دوستوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ احمدیت کی اشاعت نہ صرف اس لئے ضروری ہے کہ خُدا کے دین کی اشاعت ہو بلکہ لوگوں کی اپنی تربیت کے لئے بھی یہ بہت ضروری ہے۔جب وہ تبلیغ کے لئے باہر نکلیں گے، دوسروں کے پاس جائیں گے تو ان پر اعتراض ہوں گے۔لوگ احمدیوں کے عیوب بیان کریں گے اور ممکن ہے ان میں سے کوئی عیب خود اُن کے اپنے اندر پایا جا تا ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی اصلاح کی کوشش کریں گے ، اپنے علوم بڑھانے کی جد وجہد کریں گے اور سلسلہ کی تعلیم کو سیکھنے کی سعی کریں گے اور اس طرح یہ تحریک تبلیغ اور تربیت دونوں لحاظ سے مفید ثابت ہوگی۔پس پندرہ سال سے اوپر عمر کے تمام نو جوانوں ، ادھیڑ عمر والوں اور بوڑھوں کی فہرستیں تیار کی جائیں اور بتایا جائے کہ اُنہوں نے کس کس قدر احمدی سال میں بنانے کی کوشش کرنے کا کی وعدہ کیا ہے؟ اور کس کس مقام کے لوگوں کو مد نظر رکھا ہے؟ اس سال میں اس تحریک کو صرف مردوں کے لئے ہی رکھتا ہوں۔عورتیں بھی اگر چاہیں تو اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرنے کے لئے اپنے نام لکھوا سکتی ہیں مگر ان کے لئے یہ تحریک لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ جب انسان ہمت اور ارادہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اسے کامیابی عطا کرتا ہے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے عام رنگ میں یہ تحریک کی تھی اور اگر چہ یہ تحریک با قاعدہ نہ تھی مگر بعض لوگوں کی بیعت کے خطوط بعض دوست بھجوا ر ہے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ہم نے چونکہ خطبہ دیر سے شائع ہو رہا ہے۔اس مدت کو ۸ مارچ تک بڑھا دیتا ہوں۔