خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 498

خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۹ء حج کے لئے گیا تو میں نے بھی یہی دُعا مانگی تھی مگر یہ خیال حضرت خلیفہ اول ہی کی ایجاد سے تھا اور کہتے ہیں اَلفَضْلُ لِلْمُتَقَدِّم مگر دُعا مانگنے کا بھی ایک طریق ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک طریق ہے کہ بغیر عقل کے نقل کرتے ہیں جسے میں تو چھچھورا پن سمجھتا ہوں مثلاً میں نے جو یہ بات بیان کی ہے اب تو خیر میں نے روک دیا ہے لیکن اگر نہ روکتا تو کل ہی مجھے کئی رقعے آنے شروع ہو جاتے کہ دُعا کریں ہماری ہر دعا قبول ہو جایا کرے۔حالانکہ صرف منہ سے کوئی بات کہہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔دُعا قلب کے تغیر کا نام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ دُعا کی مثال وہی ہے جو کہتے ہیں جو منگے سومر رہے مرے سونگن جائے۔یعنی کوئی سوال ایسا ہوتا ہے کہ اس سے موت بہتر ہوتی ہے مگر بعض سوال جیسے مثلاً خدا تعالیٰ سے مانگنا جائز تو ہے مگر اس کے پورا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے اوپر ایک موت وارد کرے۔صرف یہ نہیں کہ منہ سے الفاظ دُہراتا جائے مگر میں نے دیکھا ہے لوگ کوئی بات سنتے ہیں تو یونہی منہ سے کہنے لگ جاتے ہیں کہ دُعا کریں یوں ہو۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ مجلس میں فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے بعد الموت ان ان انعاموں کے وعدے کئے ہیں۔ایک صحابی جھٹ بول اُٹھے یا رَسُول اللہ ! دُعا کریں میں بھی جنت میں آپ کے ساتھ ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں تم ساتھ ہی ہو گے جیسے ہم میں بہت سے نقال ہیں ان میں بھی بعض تھے۔چنانچہ یہ بات سنتے ہی ایک دوسرا شخص اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا یا رَسُول اللہ ! میرے لئے بھی یہی دعا فرمائیں۔آپ نے فرمایا یہ نقل ہے پہلے نے جو لینا تھا لے لیا ہے تو نقل سے کام نہیں چلتا۔کسی سے بات سنی اور منہ سے کہہ دیا یا رقعہ لکھ دیا۔اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ایک دفعہ مولوی رحمت علی صاحب کے والد بابا حسن محمد صاحب نے حضرت خلیفہ اول کو دُعا کے لئے ایک رقعہ لکھا اور اس میں کوئی ایسا فقرہ لکھ دیا کہ آپ کو بہت ہی پسند آیا اور آپ نے درس میں اس کا ذکر کیا۔یہ دیکھ کر دوسرے روز آپ جو رقعہ اُٹھاتے اس میں وہی فقرہ درج ہوتا حالانکہ بابا حسن محمد صاحب نے جب رقعہ لکھا ہو گا ان کے قلب کی خاص کیفیت ہو گی۔اس اضطراب اور کیفیت سے اس شخص کو جو اُن کا نقال ہو فائدہ پہنچ سکتا تھا اس کے بغیر نہیں۔غرض جب تک کوئی خاص موقع نہ ہو خاص تحریک نہ ہو اور دُعا کسی اعلیٰ جذبہ کے ماتحت نہ ہو محض منہ سے کہہ دینے سے کی