خطبات محمود (جلد 20) — Page 497
خطبات محمود ۴۹۷ سال ۱۹۳۹ء ، دوسرے علوم کی تعلیم کے لئے وہاں گئے تھے۔شہزادہ کے کسی آدمی نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے کہا کہ میں طبیب ہوں۔اس نے کہا کہ پھر چلو علاج کرو بہت کچھ ملے گا۔مگر یہ عہد کرو کہ اس بات کا تذکرہ کسی سے نہ کرو گے۔چنانچہ آپ وہاں پہنچے تو اُس وقت بھی ایک ایسا لطیفہ ہوا کہ آپ فرماتے کہ تھا تو وہ ہماری مصیبت کی وجہ سے مگر سمجھا گیا ہمارا ہنر۔حالانکہ اس میں عقل کا کوئی دخل نہ تھا بلکہ حالات کے ماتحت تھا اور یہ اس طرح ہوا کہ جب آپ وہاں پہنچے تو شہزادہ کھانے پر بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا آئیے حکیم صاحب کھانا کھائیے۔اس روز شہزادہ کا باورچی اسے اطلاع دے گیا تھا کہ آج میں نے آپ کے لئے خاص شور با تیار کیا ہے وہ بہت قیمتی ہے اور کوئی دوسرا اسے بنانا نہیں جانتا۔ادھر حضرت خلیفہ اول کی یہ حالت تھی کہ آپ تین روز سے فاقہ سے تھے۔پیسہ پاس نہ تھا۔آپ دستر خوان پر تو بیٹھ گئے مگر گلا خشک تھا۔آپ نے خیال کیا کہ اگر پہلے روٹی کھائی یا چاول کھائے تو نگلنا مشکل ہوگا اور اگر پہلے پانی پیا تو طبیب تھے جانتے تھے کہ معدہ خراب ہو گا۔اس لئے آپ نے شور با کا پیالہ اُٹھایا اور پینا شروع کر دیا۔آپ نے تو اس وجہ سے ایسا کیا کہ گلا خشک تھا اور اُنہوں نے سمجھا کہ یہ شخص بہت اچھے کھانوں کا عادی ہے جبھی تو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ دستر خوان پر بہترین چیز کونسی ہے۔خیر آپ نے علاج کیا اور اُسے فائدہ ہوا۔بعد میں اُس نے آپ کو اتنی رقم دی کہ آپ فرماتے میں نے سمجھا مجھ پر حج فرض ہو گیا ہے اور اس طرح آپ زمانہ طالب علمی میں ہی حج کو چلے گئے۔احادیث میں پڑھا تھا کہ خانہ کعبہ کو دیکھ کر پہلی دُعا جو انسان کرے وہ قبول ہو جاتی ہے۔آپ فرماتے جونہی ہم بیت اللہ کے قریب پہنچے میں نے سوچنا شروع کیا، کیا دعا مانگوں۔کبھی خیال آتا دولت کے لئے دُعا مانگوں مگر پھر سوچتا کہ اگر چور نکال کر لے گئے تو کیا فائدہ، کبھی خیال آتا کہ دُعا کروں علم ملی جائے مگر پھر سوچتا علم کے ساتھ اگر عمل نہ ہو ا تو کیا فائدہ۔پھر خیال آتا عمل کی توفیق ملنے کی دُعا کی کروں مگر ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اگر ساتھ علم نہ ہوا تو یونہی اِدھر اُدھر ٹھوکریں کھاتا پھروں گا۔سوچ ہی رہا تھا کہ خانہ کعبہ سامنے آ گیا میں نے دُعا کی کہ یا الہی میری ساری دُعائیں تو ل کر لیا کر جب بھی کسی مصیبت کے وقت میں تیری طرف توجہ کروں تو میری دُعا کورڈ نہ کرنا بلکہ ضرور قبول کر لینا۔سے یہ کیسی لطیف دُعا تھی جس نے آپ کو ساری عمر کام دیا۔میں جب