خطبات محمود (جلد 20) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ سال ۱۹۳۹ء ہزاروں تم میں سے ایسے ہوں گے جو سارا رمضان یہی دُعا کرنے میں گزار دیں گے کہ یا اللہ مجھے رضائی مل جائے ، ہزاروں سارا رمضان یہی دُعا کرتے رہیں گے کہ دفتر میں ہم دو چپڑاسی ہیں ایک کی ترقی ہونے والی ہے، ایک کی تنخواہ پندرہ سے سولہ ہو جائے گی ، یا اللہ یہ ترقی مجھے ملے میرے دوسرے ساتھی کو نہ ملے۔ہزاروں یہ دُعائیں کرتے رہیں گے کہ فلاں سے ہمارا جو پندرہ روپیہ کا جھگڑا ہے اُس کا فیصلہ عدالت میرے حق میں کر دے۔ممکن ہے او پرے دل کی سے کوئی اور دُعا بھی کر لیں مگر وہ صرف اس لئے ہوگی کہ توازن پورا ر ہے۔ورنہ حقیقی جوش کے ساتھ یہی دُعا کریں گے کہ رضائی مل جائے یا پندرہ سے سولہ کی ترقی مجھے ملے یا پندرہ روپیہ کا کی مقدمہ میرے حق میں فیصلہ ہو جائے۔حالانکہ اس سے بہت بڑی بڑی چیزیں ہیں جن کی ان کو ضرورت بھی ہوتی ہے مگر چونکہ علم نہیں ہوتا اس لئے ان کو مانگنے کا احساس بھی ان کے دل میں نہیں ہوتا۔مثلاً ایک شخص کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں جن کا اس کے سوا کوئی نگران نہ ہو اور دو گھنٹے کے بعد اُس کی موت آنے والی ہو اور ساتھ ہی اُس کی مرغی بھی گم ہو گئی ہو اور اُسے کوئی تھی فرشتہ آ کر پوچھے کہ مانگو جو مانگتے ہو تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ مجھے اتنی لمبی عمر مل جائے کہ بچوں کی کی پرورش کر سکوں بلکہ اُس وقت یہی کہے گا کہ میری مُرغی مل جائے کیونکہ مُرغی کا نقصان اُسے نظر آ رہا ہے اور موت کا اُسے کوئی علم نہیں۔تو انسان بعض اوقات عدم علم کی وجہ سے بڑی بڑی چیزوں کو نظر انداز کر دیا کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی زندگی کا ایک نہایت دلچسپ واقعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو بڑا بنا نا ہوتا ہے اُن کے لئے شروع سے ہی ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے۔مثل مشہور ہے کہ ہونہار پر وا کے چکنے چکنے پات۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ حج کیا۔یہ حج آپ نے چھوٹی عمر میں ہی کیا تھا اور اس کا بھی ایک عجیب واقعہ ہوا۔آپ ایک ریاست میں حصول تعلیم کی غرض سے گئے۔وہاں کے ایک شہزادے کو ایک مخفی مگر خطرناک مرض ہو گیا۔وہ چاہتا تھا کہ اس بات کا علم اس کے والدین کو نہ ہوا اور نہ دوسرے لوگوں پر یہ بات ظاہر ہو۔اس لئے اُس نے اپنے خاص آدمیوں کو ہدایت کی کہ کوئی مسافر طبیب ملے تو اُسے لاؤ۔وہ مقامی اطباء کو بھی اس سے آگاہ کرنا مناسب نہ سمجھتا تھا۔حضرت خلیفہ اول وہاں مسافری کی حالت میں گئے تھے۔اُس وقت طب تو آپ بہت پڑھ چکے تھے