خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 495

خطبات محمود ۴۹۵ سال ۱۹۳۹ء ایک شخص ان میں سے بعض ہیرے لایا اور کہا کہ میں نے بعض بچوں کو ان سے کھیلتے دیکھا تھا۔ایک بچہ سے پوچھا گیا تو اُس نے کہا میں نے تو یہ گولیاں ایک کاغذ میں پڑی ہوئی پائی تھیں۔اس نے انہیں بازار میں پڑے دیکھا اور ان سے گولیاں کھیلنے لگا جس طرح بچے کھیلا کرتے ہیں۔جس کی گولی کا سرا دوسرے کی گولی سے لگ جائے وہ جیت جاتا ہے۔اس سے جب دریافت کیا گیا کہ باقی گولیاں کہاں ہیں تو اُس نے کہا میں نے محلہ والوں میں تقسیم کر دی تھیں۔حالانکہ وہ کئی لاکھ کے ہیرے تھے مگر اس بچے کو اس کی کیا قدر ہو سکتی تھی ؟ وہ شیشہ کی گولیوں کی طرح ان سے کھیلنے لگا۔اگر اس کے باپ کو وہ ہیرے ملتے تو اگر وہ بددیانت ہوتا تو چھپاتا پھرتا اور شائد شہر ہی چھوڑ کر چلا جاتا اور کسی دوسرے شہر میں جا کر فروخت کرتا اور اگر دیانتدار ہوتا تو پولیس میں جا کر رپورٹ لکھوا تا مگر بچہ کی نگاہ میں ان کی کوئی قدر نہ تھی۔وہ انہیں شیشہ کی گولیاں سمجھتا تھا اور دوسرے بچوں میں تقسیم کرتا پھرتا تھا۔اگر اسے مٹھائی کی گولیاں مالتیں تو وہ اس خوشی سے ان کو کی تقسیم نہ کرتا۔جب دوسرے بچے وہ ہیرے مانگتے ہوں گے تو وہ کہتا ہوگا کہ یہ گولیاں میرے پاس ایک سو پانچ ہیں۔میں نے ان سب کو کیا کرنا ہے کچھ تم بھی لے لولیکن اگر اسے مٹھائی کی کی گولیاں ملتیں تو وہ ہر گز دوسروں کو نہ دیتا بلکہ یہ کہتا کہ میں یہ گولیاں خود کھاؤں گا، دوسروں کو کیوں دوں؟ اس کے نزدیک مٹھائی کی گولیاں زیادہ کام کی چیز تھیں شیشہ کی اتنی نہ تھیں۔تو ہر چیز کی قدر انسان کو ضرورت اور علم کے مطابق ہوتی ہے۔ایک وقت انسان کے نزدیک روٹی کی کے ٹکڑے کی قدر بڑی ہوتی ہے بہ نسبت جواہرات کے۔کہتے ہیں کوئی شخص جنگل میں جارہا تھا کھانا بالکل ختم تھائی کہ وہ بھوک سے بیتاب ہو گیا۔زندگی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی کہ اسے راستہ میں ایک تھیلی پڑی ہوئی نظر آئی۔اُس نے بڑے شوق سے یہ سمجھ کر اٹھایا کہ شائد اس میں بھنے ہوئے دانے ہوں۔وہ بیتاب ہو کر اُس پر جھپٹا اور جھٹ چاقو نکال کر اسے کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ موتی ہیں۔اُس نے نہایت حقارت کے ساتھ اُن کو پھینک دیا اور آگے چل پڑا۔اُس کی وقت اس کے نزدیک مٹھی بھر دانے یا روٹی کا ایک ٹکڑا زیادہ قیمتی تھا بہ نسبت ان موتیوں کے۔تو ضرورت اور اہمیت کے مطابق انسان کو کسی چیز کی قدر ہوتی ہے بعض لوگ اہمیت کو دیکھتے ہوئے چھوٹی چھوٹی چیزوں کی تلاش میں نکلتے ہیں اور نہایت ہی اہم باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔