خطبات محمود (جلد 20) — Page 484
خطبات محمود لد لد سال ۱۹۳۹ ء میدان میں ابو جہل نے یہ دُعا کی تھی کہ اے خدا ! اگر اسلام تیری طرف سے ہے تو ہم پر پتھر برسا یا ہمیں دردناک دُکھ کے عذاب میں مبتلا کر ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دُعا کے نتیجہ میں وہ عذاب اُن پر نازل کر دیا اور اس طرح اُس دوسرے عذاب کی بنیاد ڈال دی جو اُس کے بعد فتح مکہ کی صورت میں اُن پر آنے والا تھا کیونکہ اس عذاب کے متعلق یہ پیشگوئی تھی کہ پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکالے جائیں گے اور پھر مدینہ سے آ کر مکہ پر حملہ کریں گے اور اہل مکہ کی رہی سہی طاقت کو بالکل توڑ دیں گے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور آپ نے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ کو فتح کر لیا ۔ اب دیکھو اس عذاب کے ذکر کا محل اور موقع بالکل صاف معلوم ہو گیا اور ان آیتوں میں کوئی بھی ایسی بات نہ رہی جس کا سمجھنا کسی کے لئے مشکل ہو۔ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے کہ مکہ والوں پر جو یہ عذاب آیا وہ ان کے لئے نہایت ہی درد ناک تھا۔ مکہ کے رؤساء کو لوگوں میں اس قسم کی عزت اور عظمت حاصل تھی کہ لوگ ان کے سامنے بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے اور ان کے احسانات بھی لوگوں پر اس کثرت کے ساتھ تھے کہ کوئی شخص ان کے سامنے آنکھ تک نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ ان کی اِس عظمت کا پتہ اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جس سردار کو مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کے لئے بھیجا اس نے باتوں باتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا دیا۔ یہ دیکھ کر ایک صحابی نے زور سے اپنی تلوار کا کندہ اِس کے ہاتھ پر مارا اور کہا اپنے ناپاک ہاتھ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو مت لگا ۔ اُس نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا تا کہ معلوم کرے کہ یہ کون شخص ہے جس نے میرے ہاتھ پر تلوار کا دستہ مارا ہے ۔ صحابہ چونکہ خود پہنے ہوئے تھے اس لئے اُن کی صرف آنکھیں اور اُس کے حلقے ہی دکھائی دیتے تھے ۔ وہ تھوڑی دیر غور کے کے دیکھتا رہا۔ پھر کہنے لگا کیا تم فلاں شخص ہو؟ اُنہوں نے کہا ہیں ۔ اُس نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے فلاں موقع پر تمہارے خاندان کو فلاں مصیبت سے نجات دی اور فلاں موقع پر تم پر فلاں احسان کیا ۔ کیا تم میرے سامنے بولتے ہو؟ اب تو احسان فراموشی کا مادہ لوگوں میں اس قدر عام ہو چکا ہے کہ کسی پر شام کو احسان کرو تو صبح کو وہ بھول جاتا ہے اور کہتا ہے کیا میں اب ساری عمر اس کا غلام بنا رہوں ۔ وہ ساری عمر کی غلامی چھوڑ ایک رات کی