خطبات محمود (جلد 20) — Page 485
خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۳۹ء احسان کی قدر تک برداشت نہیں کر سکتا۔مگر عربوں میں احسان مندی کا جذبہ بدرجہ کمال پایا جاتا تھا۔اب یہ ایک نہایت ہی نازک موقع تھا مگر جب اُس نے اپنے احسانات گنوائے تو کی اُس صحابی کی نظریں زمین میں گڑ گئیں اور وہ شرمندہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔اس پر پھر اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنی شروع کر دیں اور کہا میں عرب کا باپ ہوں۔میں تمہاری منت کرتا ہوں کہ تم اپنی قوم کی عزت رکھ لو اور دیکھو یہ جو تمہارے ارد گرد جمع ہیں یہ تو کی مصیبت آنے پر فوراً بھاگ جائیں گے اور تمہارے کام آخر تمہاری قوم ہی آئے گی۔پس کیوں کی اپنی قوم کو ذلیل کرتے ہو؟ میں عرب کا باپ ہوں تم میری بات مان لو اور جس طرح میں کہتا ت ہوں اُسی طرح عمرہ کئے بغیر واپس چلے جاؤ۔اسی دوران میں اُس نے اپنی بات پر زور دینے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منوانے کی خاطر آپ کی ریش مبارک کو پھر ہاتھ لگا دیا اور گوی آپ کی ریش مبارک کو اُس کا ہاتھ لگانا لجاجت کے رنگ میں تھا اور اس لئے تھا کہ آپ سے وہ اپنی بات منوائے مگر چونکہ اس میں تحقیر کا پہلو بھی پایا جاتا تھا اس لئے صحابہ اُسے برداشت نہ کر سکے اور جونہی اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگایا پھر کسی شخص نے زور سے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر مارا وار کہا اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کی طرف مت بڑھا۔اُس نے پھر آنکھیں اُٹھا ئیں اور غور سے دیکھتا رہا کہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے روکا اور آخر پہچان کر اُس نے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا۔ابو بکر ! میں جانتا ہوں کی کہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں۔۲۲ پس وہ دوسروں پر اس قدر احسانات کرنے والی قوم تھی کہ سوائے حضرت ابو بکر کے جس قدر انصار اور مہاجر وہاں تھے اُن سب پر اُس ایک رئیس کا کوئی نہ کوئی احسان تھا اور حضرت ابو بکر کے سوا اور کسی میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اس کے ہاتھ کو روک سکے۔اب ایک تو وہ زمانہ تھا کہ اہلِ مکہ کو اس قدر عزت حاصل تھی کہ اُن کا ایک سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتا اور آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا کر کہتا ہے میں کی عرب کا باپ ہوں میری بات مان لو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی بات کا انکار نہیں کرتے اور جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا ہے تو سوائے حضرت ابو بکر کے اور کوئی صحابی جرات نہیں کر سکتا کہ اُسے رو کے۔کیونکہ ان میں سے ہر ایک پر