خطبات محمود (جلد 20) — Page 478
خطبات محمود ۴۷۸ سال ۱۹۳۹ء آ جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد آیا کوئی ایسا عذاب تو نہیں جس کے متعلق پیشگوئی ہو کہ وہ کی اہل مکہ پر اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود ہوں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عام عذاب نبی کی موجودگی میں بھی آسکتے ہیں اور وہ خاص عذاب جس کے نتیجہ میں کسی قوم کی کئی ہلاکت مقدر ہو وہ اُس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک نبی کسی علیحدہ مقام میں نہ چلا جائے۔مگر اس قسم کا عذاب مکہ پر کسی صورت میں بھی نہیں آ سکتا تھا کیونکہ مکہ کی حفاظت کا خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ تھا۔پس اب یہی صورت رہ جاتی ہے کہ اس عذاب سے کوئی ایسا کی عذاب مراد ہو جو مکہ پر آ تو سکتا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں نہیں آسکتا ہے تھا۔کیونکہ پیشگوئیوں کے رو سے وہ عذاب اسی صورت میں آ سکتا تھا جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نہ ہوں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی نبی کسی کے متعلق کہہ دے کہ فلاں شخص کی موت میرے مرنے کے بعد ہوگی۔اب محض اس کی موت سے یہ پیشگوئی سچی ثابت نہیں کی ہوگی بلکہ پیشگوئی اُس وقت سچی ثابت ہوگی جب اس کی موت اس نبی کی وفات کے بعد ہو۔اسی طرح جب کسی خاص عذاب کے متعلق کہا جائے کہ وہ نبی کی موجودگی میں نہیں آسکتا تو وہ کی اسی صورت میں نبی کی صداقت کا ثبوت بن سکتا ہے جب نبی کی عدم موجودگی میں آئے اور اگر اس کی موجودگی میں آجائے تو وہ اس کی صداقت کا نشان نہیں بن سکے گا۔پس اس صورت کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ آیا مکہ والوں کے لئے کوئی ایسا عذاب مقدر تھا جس کی شرط یہ تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں موجود نہیں ہوں گے تب عذاب آئے گا ورنہ جب تک آپ اُن میں موجود رہیں گے وہ عذاب نہیں آئے گا۔یہ بات معلوم کرنے کے لئے جب ہم انہی آیتوں پر جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں غور کرتے ہیں تو انہی میں ہمیں اس کی طرف راہنمائی حاصل ہو جاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا کہ اس وقت کو یا دکر و جب مکہ کے کافر تیرے متعلق تدبیریں کر رہے تھے لیثْبِتُوكَ تا کہ وہ تجھے قید کر دیں آؤ يَقْتُلُوكَ یا تجھے قتل کر دیں آؤ يُخْرِجُوت یا تجھے شہر میں سے نکال دیں۔یہ وہ تین تدبیریں تھیں جو کفار مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کر رہے تھے کہ یا وہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا اپنے شہر سے نکال دیں۔اگر آپ کو وہ قید کر دیتے تو بھی آپ مکہ میں کی