خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 476

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ان کے مکانات پانی پر تیرنے لگ جاتے اور وہ اپنے مکانوں میں مزے سے بیٹھے رہتے مگر اس کی قسم کے معجزے خدا تعالیٰ کبھی نہیں دکھاتا کیونکہ اِس طرح نہ صرف اس کے قانون کی ہتک ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں وہ غیب کا پردہ بھی اُٹھ جاتا ہے جس کا ایمانیات کے سلسلہ میں موجود رہنا ضروری ہے۔پس جب بھی ایسا عذاب آئے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو الگ کر لیا کرتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ اس بستی کو چھوڑ دو اور جب انہوں نے اُسے چھوڑ دیا تو وہ تباہ کر دی گئی کیونکہ اس وقت اس قوم پر ایک ایسا عذاب نازل ہونے والا تھا جو نبی کی موجودگی میں نہیں آ سکتا تھا۔یہ معنی جو میں نے کئے ہیں یہ بالکل درست اور واقعات کے مطابق ہیں مگر زیر بحث آیت میں یہ معنی بھی مراد نہیں ہو سکتے کیونکہ نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عدم موجودگی میں مکہ پر کوئی ایسا عذاب آیا جس سے وہ نعوذ باللہ کلیہ تباہ ہو گیا ہو بلکہ اس قسم کی کے عذاب کا مکہ کے متعلق امکان بھی نہیں ہو سکتا تھا۔کیونکہ مکہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اس کی عزت کو ہمیشہ قائم رکھا جائے گا اور وہاں حاجی ہمیشہ حج کے لئے جاتے رہیں گے۔پس جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُم و انت فيهم ، تو ایک ہی عذاب ایسا ہوسکتا تھا جو نبی کی عدم موجودگی میں آسکتا تھا مگر وہ عذاب ایسا ہے جو مکہ میں کسی صورت میں نہیں آسکتا کیونکہ اُس کی حفاظت کا خدا تعالیٰ کی طرف سے اوّل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے وعدہ کیا ہوا ہے۔پس اس آیت کی میں نہ تو ایسے عذابوں کا ذکر ہے جو نبی کی موجودگی میں آ سکتے ہیں کیونکہ ایسے عذاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اہل مکہ پر آئے اور نہ ایسے عذابوں کا اس میں ذکر ہے جو نبی کی موجودگی میں نہیں آسکتے۔یعنی جن سے کفار اور ان کے مقامات کو کلی طور پر تباہ کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس قسم کی تباہی مکہ پر آ ہی نہیں سکتی تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس آیت کے معنی کیا ہوئے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے اور ایسے سوالات میں سے ہے جو اُنہی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو ا کرتے ہیں جو قرآن کریم پر غور کرنے کے عادی ہیں۔چنانچہ مدت ہوئی میرے دل میں بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ عجیب بات ہے کہ عذاب کی جو دو قسمیں ہیں ان دونوں قسموں میں سے کسی ایک پر بھی یہ آیت چسپاں نہیں ہوتی کیونکہ شخصی عذاب یا ایسے قومی عذاب جن سے ساری قوم یا تی