خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 457

خطبات محمود ۴۵۷ سال ۱۹۳۹ ء کو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ میں کیا کہتا ہوں یا دفتر والے ان سے کیا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ انہیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ دین ان سے کیا چاہتا ہے؟ مجھے افسوس ہے کہ بعض احمدی دکاندار رمضان میں کھانے کی اشیاء کی دکانوں کو کھلا رکھتے ہیں اور لوگ وہاں بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں حالانکہ یہ رمضان کے احترام کے منافی ہے۔ عصر کے بعد تک کھانے پینے کی تمام دکانیں بند رہنی چاہئیں ۔ ہاں روٹی کی کھلی رہ سکتی ہیں کیونکہ مسافر اور بیمار بھی وہاں سے کھاتے ہیں لیکن بہتر ہو کہ ان پر بھی بورڈ لگا دیئے جائیں کہ دن میں یہاں صرف بیمار اور مسافر ہی کھانا کھا سکتے ہیں ۔ ہے۔ اس سے ہماری پالیسی تو کم سے کم ظاہر ہو جائے گی لیکن یہ تو کھانے کی دکانوں کے متعلق مٹھائی وغیرہ کی دکانیں تو بہر حال بند ہونی چاہئیں ۔ یہ کوئی ایسی چیزیں نہیں کہ جن کے بغیر گزارہ نہ ہو سکے ۔ کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ کوئی کہے جلیبیاں اور شکر پارے ضروری ہیں ورنہ جان نکل جائے گی ۔ پس ایسی دکانوں کے متعلق یہی قانون ہونا چاہئے کہ وہ تمام دن بند رہیں ۔ ہاں افطاری کے وقت کھلیں تا جو لوگ گھر میں افطاری کا سامان نہیں کر سکتے ان کو تکلیف نہ ہو۔ میں نے کئی دفعہ دکانداروں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ اصلاح کی تجاویز پیش کریں اور اپنی ایک کمیٹی مقرر کریں جو ان تجاویز پر غور کر کے میرے سامنے پیش کرے بلکہ ایک گزشتہ خطبہ میں تو میں یہ بھی کہہ چکا ہوں کہ میں دوسروں سے سودا نہ لینے کی قید جو جماعت نے اپنے پر مقرر کر رکھی ہے اُسے ہٹانے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ اس لئے اس سے پہلے پہلے اپنے آپ کو منظم کر لو مگر اُنہوں نے کوئی توجہ اب تک نہیں کی لیکن جس روز میں وہ قید اُٹھا دوں گا اُس دن دھڑا دھڑ عرضیاں آنے لگیں گی کہ حضور مہلت ملنی چاہئے تھی ، یہ ہونا چاہئے تھا ، وہ ہونا چاہئے تھا۔ اب تو سب سو رہے ہیں لیکن جس روز میں نے اعلان کر دیا رقعوں کی بھر مار ہو جائے گی ۔ میں تین سال سے کہہ رہا ہوں مگر کوئی توجہ نہیں کی جاتی لیکن جس روز میں نے پابندی ہٹانے کا اعلان کر دیا منافق شور مچانے لگیں گے کہ سختی کی جاتی ہے ۔ اتنا ظلم ہو رہا ہے ہم کیا کریں؟ حالانکہ وہی کرنا چاہئے جو میں تین سال سے کہہ رہا ہوں ۔ دکانداروں کی انجمن بننے سے اصلاح کی کئی صورتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ جنگ کی خبر کے ساتھ ہی یہاں کے بعض دکانداروں نے بھی بالکل ناجائز طور پر قیمتوں میں اضافہ کر دیا حالانکہ ان کا کوئی حق نہ تھا کہ اس طرح