خطبات محمود (جلد 20) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۹ء کتابیں خریدے، نہ پڑھائی کرے اور یہی کہتا رہے کہ اللہ مجھے پاس کر دے گا۔میں اس پر بچے طور پر تو کل کرتا ہوں یا کسی کو اپنے لئے مکان کی ضرورت ہوتو نہ اینٹیں مہیا کرے، نہ چھونا خریدے، نہ گارا بنوائے ، نہ مزدور اور مستری بلوائے اور کہے کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں یہ تر ڈ دکروں۔اللہ تعالیٰ خود مکان بنا دے گا یا مثلاً کھانے کی ضرورت ہو تو بیوی کھانا تیار نہ کرے اور شام کو جب خاوند گھر آئے اور پوچھے کہ کھانا تیار ہے تو وہ کہے کہ مجھے کھانا تیار کرنے کی کیا تج ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہر جاندار کو روزی پہنچانا ہے۔وہ خود ہمیں کھانا پہنچائے گا۔اب کیا تم سمجھتے ہو کہ خاوند اس کی بات سُن کر یہ کہے گا کہ میری بیوی نے بڑا تو کل کیا۔وہ یقیناً اس پر ناراضگی کا اظہار کرے گا بلکہ ایک غیر تعلیم یافتہ گنوار تو کچھ تعجب نہیں کہ دو چار سو نٹیاں بھی رسید کر دے مگر اس قسم کا تو کل ہم کو دین کے معاملہ میں فوراً یاد آ جاتا ہے۔ہم اپنی روٹی کے لئے کی تو کل نہیں کرتے ، ہم اپنے مکان کے لئے تو کل نہیں کرتے ، ہم اپنی ملازمت کے لئے تو گل نہیں کرتے ، ہم اپنے دوسرے کاموں کے لئے تو کل نہیں کرتے بلکہ تمام وہ تدابیر اختیار کرتے کی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس عالم اسباب میں مقرر فرمائی ہیں۔باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موت اور حیات میرے اختیار میں ہے، ذلت اور عزت میرے ہاتھ میں ہے، رزق کی فراخی اور تنگی میرے ہاتھ میں ہے مگر ہم موت سے بچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں ، ہم حیات کے کی پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں ، ہم ذلّت سے محفوظ رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں ، ہم عزت اور ترقی کے حصول کے لئے بھی کوشش کرتے ہیں ، ہم رزق بڑھانے اور آمدنی کو وسیع کرنے کی کی بھی کوشش کرتے ہیں۔گویا ہم وہ ساری تدابیر اختیار کرتے ہیں جن تدابیر کا اختیار کرنا دنیوی کاموں کی سرانجام دہی کے لئے ضروری ہے مگر جب دین کا سوال آجاتا ہے تو ہم نہایت بے ے تکلفی سے کہہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کرے گا ہمیں اس میں فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں ایک دفعہ لاہور آ رہا تھا یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کا واقعہ ہے جس کمرہ میں میں سوار ہو ا اُسی کمرہ میں ایک مشہور پیر صاحب بھی سوار ہو گئے۔انہیں مجھ سے کچھ کام تھا اور وہ مجھ سے ایک معاملہ میں مدد لینا چاہتے تھے۔دورانِ گفتگو میں اُنہوں نے مجھے ممنون کرنے کی کے لئے ایک رومال نکالا جس میں کچھ میوہ بندھا ہوا تھا اور رومال کھول کر میرے سامنے بچھا دیا