خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 439

خطبات محمود ۴۳۹ سال ۱۹۳۹ء بھی دخل ہوتا ہے۔ایسی حالت میں سنت اللہ کہتی ہے کہ پہلے خود قُربانی کرو اور اپنی قربانی کو انتہا تک پہنچا دو پھر میں تمہاری مدد کو آؤں گا۔پس اگر تدبیر کا ساتھ تعلق ہو تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اسی وقت آیا کرتی ہے جب انسان تدبیر اختیار کر لیتا ہے۔زیر بحث امر پہلی قسم میں سے نہیں بلکہ دوسری قسم میں سے ہے۔کیونکہ یہ لڑائی ہے کوئی آسمانی آگ نہیں جو مومنوں سے ذرا پرے ہٹ کر جا گرے گی۔لڑائی ہمیشہ ہاتھوں سے ہوتی ہے۔مضبوط اور طاقتو رلوگ تو ہاتھ سے مدد کر تے ہی ہیں اگر کوئی بیمار ہے تو وہ اس رنگ میں مدد کر سکتا ہے کہ اور لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا کرے یا علمی کام کر سکتا ہے۔اسی طرح امیر لوگ جنگ میں روپیہ سے مدد دے سکتے ہیں اور جو غریب ہیں وہ محنت اور جفاکشی کے کام کر سکتے ہیں۔بہر حال لڑائی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ تدبیر کا تعلق ہے چاہے وہ تدابیر مکمل ہوں یا نا مکمل۔پس ایسے معاملات میں اللہ تعالیٰ کی مدداسی وقت نازل ہوا کرتی ہے جب انسان تدابیر سے کام لے اور اگر وہ تدابیر والے کاموں میں تدبیر سے کام نہ لے اور محض تو کل کر کے بیٹھ رہے تو سنت اللہ نہ صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مددنا زل نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسے جھوٹے متوکل پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے ہم نے تمہیں موقع دیا تھا کہ تم تدبیر سے کام لومگر تم نے تدابیر سے کام لینے کی بجائے جھوٹا تو کل کیا جس کی سزا یہ ہے کہ اب تمہیں الہی مدد نہیں پہنچے گی بلکہ تم ذلت کے عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے۔پس اسی سنت اللہ کے ماتحت ہمارا ابھی ایسے موقع پر تو کل کر کے بیٹھ رہنا اور تدابیر سے کام نہ لینا کسی صورت میں درست نہیں ہوسکتا۔پھر تعجب ہے ہم دین کے معاملہ میں تو تو کل ظاہر کرتے ہیں لیکن دُنیا کے معاملہ میں ہم کبھی تو گل نہیں کرتے۔کبھی کسی کا عزیز بیمار ہو جائے تو تم یہ نہیں دیکھو گے کہ وہ خاموش ہو کر گھر میں بیٹھ رہے اور کہے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہوں وہ خود کبھی گھر میں نہیں بیٹھے گا بلکہ وہ فوراً دوائی کی لینے کے لئے کسی ہسپتال کی طرف دوڑے گا۔وہ کبھی نہیں کہے گا کہ بھلا ملیر یا میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ یا ہیضہ مجھے کیا کر سکتا ہے؟ یا طاعون مجھے کیا نقصان پہنچا سکتی ہے؟ وہ فوراً علاج کرے گا اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر روپیہ بھی خرچ کرے گا اور اس معاملہ میں تو کل سے کام لینے کی بجائے تدبیر سے کام لے گا۔اسی طرح تم کبھی نہیں دیکھو گے کہ کوئی لڑکا سکول میں داخل ہو تو نہ کی