خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 44

خطبات محمود ママ سال ۱۹۳۹ ء تو کہتے ہیں کہ اس کام کے کرنے میں ہماری ہتک ہے۔ حالانکہ ہتک کام کے کرنے میں نہیں بلکہ نکما بیٹھ کر کھانے میں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ لوگوں سے مانگ کر کھانا ایک لعنت ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ مانگا ( بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم کسی غیر سے تھوڑا مانگتے ہیں ۔ ہم تو سلسلہ سے مانگتے ہیں ۔ اس کا جواب اسی واقعہ میں آ جاتا ہے ۔ جو میں بیان کرنے لگا ہوں کیونکہ اس نے بھی کسی غیر سے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا تھا ) آپ نے اسے کچھ دے دیا۔ وہ لے کر کہنے لگا یا رَسُول اللہ ! کچھ اور دیجئے ۔ آپ نے پھر اسے کچھ دے دیا۔ وہ پھر کہنے لگا ۔ یا رَسُول اللہ ! کچھ اور دیجئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے فرمایا کیا میں تم کو کوئی ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے اس مانگنے سے بہت زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کیوں نہیں يَا رَسُول اللہ فرمائیے کیا بات ہے ۔ آپ نے فرمایا سوال کرنا خدا تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ تم کوشش کرو کہ تمہیں کوئی کام مل جائے اور کام کر کے کھاؤ ۔ یہ دوسروں سے مانگنے اور سوال کرنے کی عادت چھوڑ دو۔ اس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میں نے آج سے یہ عادت چھوڑ دی ۔ چنانچہ واقع میں پھر اس نے اس عادت کو بالکل چھوڑ دیا اور یہاں تک اس نے استقلال دکھایا کہ جب اسلامی فتوحات ہوئیں اور مسلمانوں کے پاس بہت سا مال آیا اور سب کے وظائف مقرر کئے گئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بلوایا اور کہا یہ تمہارا حصہ ہے تم اسے لے لو۔ وہ کہنے لگا میں نہیں لیتا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اقرار کیا تھا کہ میں ہمیشہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاؤں گا ۔ سو اس اقرار کی وجہ سے میں یہ مال نہیں لے سکتا کیونکہ یہ میرے ہاتھ کی کمائی نہیں ۔ حضرت ابو بکر نے کہا یہ تمہارا حصہ ہے، اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ وہ کہنے لگا خواہ کچھ ہو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا ہوا ہے کہ میں بغیر محنت کئے کوئی مال نہیں لوں گا ۔ میں اب اس اقرار کو مرتے دم تک پورا کرنا چاہتا ہوں اور یہ مال نہیں لے سکتا ۔ دوسرے سال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پھر اسے بُلایا اور فرمایا کہ یہ تمہارا حصہ ہے اسے لے لو ۔ مگر اس نے پھر کہا میں نہیں لوں گا۔ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا ہوا ہے کہ میں محنت کر کے مال کھاؤں گا ۔ یونہی مفت میں کسی جگہ سے مال