خطبات محمود (جلد 20) — Page 43
خطبات محمود ۴۳ سال ۱۹۳۹ء اس میں ان کا بھی فائدہ ہوگا کیونکہ آخر وہ نفع ہی پر بیچیں گے اور غرباء کا بھی فائدہ ہے کہ ان کے گزارہ کی صورت ہوتی رہے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس کام کو اتنا وسیع کیا جائے کہ نہ صرف قادیان میں بلکہ بیرونی جماعتوں میں بھی کوئی بیوہ اور غریب عورت ایسی نہ رہے جو کام نہ ملنے کی وجہ سے بھوکی رہتی ہو۔ہمارے ملک میں یہ ایک بہت بڑا عیب ہے کہ وہ بھوکا رہنا پسند کریں گے مگر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جس کی اصلاح کی ہونی چاہئے اور یہ اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ہر شخص یہ عہد کرے کہ وہ مانگ کر نہیں کھائے گا بلکہ کما کر کھائے گا۔اگر کوئی شخص کام کو عیب سمجھتا اور پھر بھوکا رہتا ہے تو اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں لیکن اگر ایک شخص کام کے لئے تیار ہو لیکن بوجہ کام نہ ملنے کے وہ بھوکا رہتا ہو تو یہ جماعت اور قوم پر ایک خطر ناک الزام اور اس کی بہت بڑی ہتک اور سبکی ہے۔پس کام مہیا کرنا جماعتوں کے ذمہ ہے لیکن جو لوگ کام نہ کریں اور سستی کر کے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالیں ان کی ذمہ داری جماعت پر نہیں بلکہ ان کے اپنے نفسوں پر ہے کہ اُنہوں نے با وجود کام ملنے کے محض نفس کے گسل کی وجہ سے کام کرنا پسند نہ کیا اور بھوکا رہنا گوارا کر لیا۔میرا پروگرام یہ ہے کہ لجنہ کا کام جب یہاں کامیاب ہو جائے تو باہر بھی اسے جاری کیا کی جائے یہاں تک کہ کوئی بیوہ اور یتیم عورت ایسی نہ رہے جو خود کام کر کے اپنی روزی نہ کماتی ہو۔اس جد و جہد میں اگر ہم کامیاب ہو جائیں تو پھر انہی لوگوں کا بار جماعت پر رہ جائے گا جو بالکل ناکارہ ہیں۔جیسے اندھے ہوئے یا کو لے اور اپاہج ہوئے۔گو ہر اندھا نا کارہ نہیں ہوتا بلکہ کئی اندھے بھی بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔بہر حال جس حد تک اندھوں وغیرہ کے لئے بھی کام مہیا ہو سکتا ہو اس حد تک ہمیں ان کے لئے بھی کام مہیا کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ خود کام کر کے کھائیں مگر اس معاملہ میں محلوں کے پریذیڈنٹوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔اگر محلوں کے پریذیڈنٹ مختلف مقررین سے اپنے اپنے محلہ میں وقتاً فوقتاً ایسے لیکچر دلاتے رہا کریں کہ نکتا بیٹھ کر کھانا نہایت غلط طریق ہے۔کام کر کے کھانا چاہئے اور کسی کام کو اپنے لئے عار نہیں سمجھنا چاہئے۔تو امید ہے کہ لوگوں کی ذہنیت بہت کچھ تبدیل ہو جائے۔میں نے دیکھا ہے قادیان میں بھی ایک اچھا خاصا طبقہ ایسے لوگوں کا ہے جنہیں جب کوئی کام دیا جا تا ہے