خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 427

خطبات محمود ۴۲۷ سال ۱۹۳۹ء گاؤں میں کسی ایک مقام پر وہ پڑے رہتے اور جو آتا وہ مگد رپھیر کر اور چند منٹ ورزش کر کے چلا جا تا اور کسی کا اس میں کچھ بھی خرچ نہیں آتا تھا یا مثلاً بیٹھکیں نکالنا ہے۔اب اس اُٹھک بیٹھک پر کسی کا کیا خرچ آتا ہے یا ڈنٹر نکالنے میں ان کا کیا خرچ ہوسکتا ہے؟ کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا اور پھر مزید فائدہ یہ ہے کہ ہر شخص ان میں حصہ لے سکتا ہے لیکن کرکٹ اور ہاکی میں سارا ملک نہیں ، آدھا ملک نہیں ، چوتھا حصہ مُلک کا نہیں بلکہ ملک کا دسواں حصہ بھی شامل نہیں ہوسکتا۔چنانچہ ایک دفعہ حساب کر کے میں نے بتایا تھا کہ اگر کرکٹ ، ہاکی اور فٹ بال کے لئے تمام مُلک کی کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیلڈز بنا دی جائیں تو زراعت کے لئے بہت ہی تھوڑی جگہ رہ ج جائے اور پھر لوگ کرکٹ کے بال اور وکٹیں کھایا کریں، روٹی اور غلہ انہیں نہ ملے تو چند محدود نوجوانوں میں ہی یہ کھیلیں جاری ہو سکتی ہیں سارے ملک میں نہیں اور پھر با وجود ایسی کھیلیں کھیلنے کے نتیجہ ظاہر ہے۔کرکٹ اور ہاکی کھیلنے کے باوجود ہماری جماعت کے نوجوانوں کے جسم کی مضبوط نہیں ہو سکے اگر فزیکل ٹریننگ سے وہ اپنے اندر طاقت پیدا کرتے ، اگر رسہ کشی کرنا ، گولہ پھینکنا کودنا، تیرنا اور چھلانگیں لگا نا وہ اپنے لئے ضروری سمجھتے تو آج ان کی جسمانی حالت بالکل اور ہوتی کیونکہ انہی کھیلوں سے وہ طاقتیں پیدا ہوتی ہیں جو آئندہ زندگی میں کام آیا کرتی ہیں۔چونکہ ہماری جماعت کے نو جوانوں نے اس امر کی طرف توجہ نہیں کی تھی اس لئے آج با وجود اس بات کے کہ ان میں جوش ہے، ان میں اخلاص ہے ان میں ولولہ اور ہمت ہے۔جب وہ آگے آتے اور فوجی ٹرینگ کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تو ڈاکٹری معائنہ کے بعد انہیں کہہ دیا جاتا ہے کہ تم فوجی خدمت کے قابل نہیں۔صحت کا یہ معیار اس قدر گرا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کے سونو جوان پیش ہوتے ہیں اور ان سو میں سے افسرانِ متعلقہ صرف دس کا انتخاب کرتے ہیں۔اسی طرح کچھ عرصہ ہو ا کئی سو نو جوانوں میں سے افسروں نے بائیس نو جوانوں کو کی بچنا اور اُن بائیس میں سے بھی صرف پانچ منظور ہوئے۔یہ حالات جو ظاہر ہوئے ہیں انہوں نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں اور ثابت کر دیا ہے کہ میں نے آج سے دو سال پہلے مغربی کھیلوں کی بجائے دیسی کھیلیں جاری کرنے کی جو تحریک شروع کی تھی وہ نہایت ہی با موقع اور برمحل تھی مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت نے اس کی طرف توجہ نہ کی جس کا خراب نتیجہ اب