خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 424

خطبات محمود ۴۲۴ سال ۱۹۳۹ء دوسری طرف ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جن میں نقائص ہیں اُن سے نقائص کو دور کر دیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کے کرتبوں کی طرف جن سے صحت پیدا ہوتی ہے ہمیشہ توجہ رکھتے تھے مگر ہمارے ملک میں بھیڑ چال کی عادت ہے۔میں نے پہلے بھی بارہا تو جہ دلائی ہے کہ ہمارا ملک ایسی کھیلوں میں لگا رہتا ہے جو نہ تو صحت کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ سارے نوجوان ان کھیلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک قادیان کے نوجوانوں نے بھی میری اس نصیحت سے فائدہ نہیں اُٹھایا اور یورپ کی نقل ان کی میں بدستور قائم ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یورپ میں چونکہ کرکٹ اور ہا کی کھیلی جاتی ہے اس لئے ہمیں بھی کرکٹ اور ہا کی ہی کھیلنی چاہئے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ یورپ میں صرف ہا کی اور کرکٹ ہی نہیں کھیلی جاتی بلکہ وہ کھیلیں بھی وہاں کھیلی جاتی ہیں جن کے ذریعہ نو جوانوں میں طاقت پیدا ہوتی اور ان کی صحت درست رہتی ہے۔ہمارے نو جوان صرف کرکٹ اور ہاکی کھیلتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صحت کے لئے تمام ضروری کھیلیں انہوں نے کھیل لیں حالانکہ کرکٹ اور ہا کی صحت کے لئے مفید نہیں بلکہ خالی ان پر قناعت کی جائے تو مضر ہیں اور یورپ میں بھی صرف کرکٹ اور ہاکی ہی کھیل نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان میں اور بھی کئی کھیلوں کا رواج ہے۔مثلاً ان کو باکسنگ سکھایا جاتا ہے اور باکسنگ اتنی خطرناک چیز ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں سے سو میں سے شاید ایک اسے برداشت کر سکے۔دو نو جوانوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ بے دردی سے ایک دوسرے کو مگے ماریں۔اب ذرا سکول میں یہ کھیل تو کرا کر دیکھو۔دوسرے ہی دن لڑکوں کے والدین شور مچا دیں گے کہ ہم اپنے بچوں کو اس سکول سے نکالتے ہیں۔ہم نے استاد سمجھ کر لڑکوں کو ان کے پاس بھیجا تھا نہ کہ قصاب سمجھ کر۔مگر انگلستان میں اکثر تعلیم یافتہ نوجوان با کسنگ جانتے ہیں اور جسے باکسنگ آتا ہو وہ اکیلا اگر دس بیس کے نرغہ میں پھنس جائے تو وہ بغیر سوٹی کے بغیر تلوار کے، بغیر کسی ہتھیار کے محض ہاتھوں کے ذریعہ ان سب کو زخمی کر دے گا اور خود بچ جائے گا۔باکسنگ دراصل پُرانے زمانہ کا ایک قسم کا گنکا ہے۔اسی طرح اور کئی ورزشیں ہیں جن میں سے بعض ہمارے ہاں بھی سکولوں میں مقرر ہیں مگر ان کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔زیادہ تر انہیں یہی خیال رہتا ہے کہ ہاکی کے میچ کھیلے جائیں اور