خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 405

خطبات محمود لد ٢٠ سال ۱۹۳۹ ء میں نے بھی بعض خوا ہیں ۱۹۱۵ ء یا ۱۹۱۶ء میں دیکھیں جن میں سے بعض مجھے بھول گئیں اور بعض کے متعلق میں سمجھتا تھا کہ ان کی کوئی بار یک تعبیر ہے مگر پچھلے سال سے دُنیا میں جو واقعات رونما ہو رہے ہیں ان سے مجھے معلوم ہو رہا ہے کہ ان میں سے بعض رؤیا ظاہر پر مبنی تھیں اور میں صرف ان کو اس لئے باریک اشارے سمجھتا تھا کہ اس وقت تک حالات ظاہر نہ ہوئے تھے۔ اسی زمانہ کی رؤیا میں سے آج مجھے ایک رؤیا یاد آئی ہے جو ۱۹۱۵ ء یا ۱۹۱۶ ء میں میں نے دیکھی اور مجھے حیرت آتی ہے کہ وہ رویا کتنی واضح ہے جس کے پورا ہونے کے اب سامان ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ وہ خواب ہے تو سخت خطر ناک اور اس سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ دنیا میں بہت بڑی تباہی آنے والی ہے مگر اُمید کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے۔ پس چونکہ اس کا تعلق بظاہر موجودہ جنگ کے ساتھ ہے اس لئے میں اُسے بیان کر دیتا ہوں ۔ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا میدان ہے جس میں میں کھڑا ہوں ۔ اتنے میں میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عظیم ال الشان بلا جو ایک بہت بڑے اژدہا کی شکل میں ہے ڈور سے چلی آ رہی ہے ۔ وہ اثر دہا دس میں گز لمبا ہے اور ایسا موٹا ہے جیسے کوئی بہت بڑا درخت ہو ۔ وہ اثر دہا بڑھتا چلا آتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ دُنیا کے ایک کنارے سے چلا ہے اور درمیان میں جس قدر چیزیں تھیں ان سب کو کھاتا چلا آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ اثر رہا اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں ہم ہیں اور میں نے دیکھا کہ باقی لوگوں کو کھاتے کھاتے وہ ایک احمدی کے پیچھے بھی دوڑا ۔ اُس احمدی کا نام مجھے معلوم ہے مگر میں بتاتا نہیں وہ احمدی آگے آگے ہے اور اژدہا پیچھے پیچھے ۔ میں نے جب دیکھا کہ اثر رہا ایک احمدی کو کھانے کے لئے دوڑ پڑا ہے تو میں بھی ہاتھ میں سونٹا لے کر اس کے پیچھے بھاگا لیکن خواب میں میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اتنی تیزی سے دوڑ نہیں سکتا جتنی تیزی سے سانپ دوڑتا ہے ۔ چنانچہ وہ اتنی تیزی سے دوڑتا ہے کہ میں اگر ایک قدم چلتا ہوں تو سا ہوں تو سانپ دس قدم کے فاصلے پر پہنچ جاتا ہے لیکن بہر حال میں دوڑتا چلا گیا یہاں تک کہ میں نے دیکھا وہ احمدی ایک درخت کے قریب پہنچا اور تیزی سے اس درخت پر چڑھ گیا اس نے خیال کیا کہ اگر میں درخت پر چڑھ گیا تو میں اس اثر دہا کے حملہ سے بچ جاؤں گا مگر ابھی وہ اس درخت کے نصف میں ہی تھا کہ اژدہا اس کے پاس پہنچ گیا اور سر اُٹھا کر اسے