خطبات محمود (جلد 20) — Page 402
خطبات محمود ۴۰۲ سال ۱۹۳۹ ء کہ میں اسے کھلاؤں گا اور یہ مجھے دودھ، گھی دے گی ۔ پس ہوشیار مالک اسے خوب کھلاتا ، پلاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں نے اُسے کچھ نہ کھلایا تو یہ دودھ، گھی بھی نہیں دے گی ۔ اسی طرح اگر تم چاہو تو بے شک یہ کہہ لو کہ انگریز ہندوستانیوں کو خود غرضی کے طور پر بعض فوائد پہنچاتے ہیں مگر میں کہوں گا کہ یہ ویسی ہی خود غرضی ہے جیسے اچھا مالک بھینس کو محض اپنے فائدہ کے لئے کھلاتا پلاتا ہے۔ بے شک اس میں مالک کی بھی خود غرضی ہوتی ہے مگر بہر حال وہ اس مالک سے بہتر ہوتا ہے جو بھینس کو بھوکا رکھ رکھ کر مار ڈالتا ہے ۔ وہ بیشک اسے کھلاتا ہے اپنے کے لئے ، وہ بیشک اُسے پلاتا ہے اپنے گھی کے لئے مگر بہر حال بھینس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ کہیں اسے نہلایا دھلایا جاتا ہے، کہیں اس کی مالش کرائی جاتی ہے، کہیں اسے عمدہ سے عمدہ چارہ کھلایا جاتا ہے ۔ وقت پر پانی پلایا جاتا ہے اور جانور اپنے مالک سے اس سے زیادہ کی اُمید دودھ ہے۔ بھی نہیں رکھتا۔ وہ جانور کی امیدیں پوری کر دیتا ہے اور جانور اُسے دودھ گھی دے دیتا پس انگریزوں کی مثال اس اچھے زمیندار کی سی ہے جو اپنی بھینس گھوڑے یا گائے وغیرہ کی خدمت بھی کرتا ہے اور اس سے کام بھی لیتا ہے مگر دوسری حکومتوں کی مثال ایک بوچڑ کی سی ہے جو چھری پھیرتا اور گائے یا بھینس کو ذبح کر دیتا ہے۔ وہ گوشت تو خود کھا لیتا ہے اور ہڈیاں وغیرہ اُٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے کون اس کی نگرانی کرے، کون اسے کھلائے پلائے ،کون اس کی مالش کا بندو بست کرے ، کون اسے نہلائے دھلائے ۔ پس وہ چھری اُٹھاتا اور اُسے ذبح کر کے رکھ دیتا ہے۔ غرض انگریزی قوم بالطبع شریف واقع ہوئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص جو انصاف پسند ہو اور بغض اور کینہ کا شکار نہ ہو وہ اگر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کرے تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ انگریز دوسروں سے بدر جہا بہتر ہیں ۔ ایسی صورت میں اس بات پر خوش ہونا اور یہ امید میں لگائے بیٹھنا کہ اب انگریزوں کو ان کے کئے کی سزا ملنے لگی ہے۔ میرے نزدیک نہایت بے وقوفی کی بات ہے۔ اگر یہ معمولی جنگ ہوتی اور اس میں انگریزوں کو خفیف سی زک پہنچنے کا اندیشہ ہوتا جیسے ایسے سینیا کے معاملہ میں انگریزوں کو زک ہوئی یا چیکوسلو یکیا کے معاملہ میں انہیں ہوئی میں زک پہنچی اور انگریزی حکومت میں انتشار پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہوتا جیسے ایسے سینیا یا چیکوسلو یکیا