خطبات محمود (جلد 20) — Page 386
خطبات محمود ۳۸۶ سال ۱۹۳۹ء زید یا بکر سے جھگڑا ہماری تبلیغ کے رستہ میں روک نہیں۔اگر کوئی بے دین اور شریر افسر حکومت سے تنخواہ لے کر ایک وفادار جماعت کو دق کرنا شروع کر دے تو اگر ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں تو ہم اپنی تبلیغ کے راستہ کو بند نہیں کرتے بلکہ ایک شریر کوسیدھا کرتے ہیں مگر اب معاملہ ایک دو شریر افسروں تک محدود نہیں بلکہ اس وقت حکومت برطانیہ اپنے سارے مجموعہ نظام سمیت خطرہ میں ہے اور بالکل ممکن ہے اگر اس طرف سے کمزوری دکھائی جائے تو حکومت انگریزی کو شکست کی ہو جائے اور اس کے علاقے کسی دوسری حکومت کے ماتحت چلے جائیں اور اس طرح کی مذہبی آزادی جاتی رہے اور ہماری تبلیغ رُک جائے۔پس اس معاملہ کی اہمیت کو سمجھنا چاہیئے اور وہ راہ اختیار نہیں کرنی چاہئے جو نادانی اور ہلاکت کی ہے۔کئی نادان نوجوان ہیں جو مجھے کہتے رہتے ہیں کہ آپ احرار کے فتنہ کے وقت تو یہ کہتے تھے اور اب یہ کہتے ہیں۔وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ اس وقت صرف مقامی حکام کا معاملہ تھا مگر اب تمام برٹش ایمپائر کا معاملہ ہے اور دُنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی چھوٹی چیز کے مقابلہ میں بڑی چیز آ جائے تو ہمیشہ چھوٹی چیز کو قربان کر دیا تھ جاتا ہے اور بڑی چیز کو بچالیا جاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک بچہ شمع کو انگلی لگا رہا ہو تو ہم اسے ڈانٹیں گے اور کہیں گے انگلی جل جائے گی اس کی حفاظت کرو مگر کسی دوسرے موقع پر جب ہمارے کسی عزیز کو خدانخواستہ کینسر ہو جائے تو ہم کہنی تک اس کا ہاتھ کٹوا دیں گے۔اب اگر کوئی کہے کہ اس وقت تو آپ شمع کو انگلی بھی نہیں لگانے دیتے تھے اور آج کہہ رہے ہیں کہ فلاں شخص کہنی تک اپنا ہا تھ کٹوادے۔تو وہ احمق ہی ہوگا کیونکہ ہم نے پہلی بات اس وقت کہی تھی جب شمع کے مقابلہ میں انگلی تھی اور دوسری بات اس وقت کہی ہے جب ہاتھ کے مقابلہ میں جان ہے۔پہلی حالت میں یہ ضروری تھا کہ انگلی کی حفاظت کی جاتی اور دوسری حالت میں یہی ضروری تھا کہ ہاتھ کو کہنی تک کٹوا دیا جاتا۔اسی طرح اگر اس وقت جنگ جاتی رہے اور وہی امن کی صورت ہو جائے جو پہلے تھی اور پھر ہمیں بدمعاش اور شریر حکام دق کریں تو پھر میں وہی بات کہوں گا جو میں نے پہلے کہی تھی اور اگر پھر دوبارہ انگریزی حکومت خطرہ میں پڑ جائے تو میں پھر وہی بات کہوں گا جو اب کہ رہا ہوں کیونکہ اس صورت میں معاملہ کی نوعیت بالکل اور ہو جاتی ہے اور مومن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کام کرے۔حقیقت یہ ہے کہ مومن ہر کام کی