خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 383

خطبات محمود ۳۸۳ سال ۱۹۳۹ ء تو اگر صرف غیرت کا سوال ہو تو جس طرح اس معاملہ میں دوسروں کو غیرت ہے اسی طرح مجھ کو بھی غیرت ہے بلکہ مجھے چونکہ وہ تمام شرارتیں معلوم ہیں جو حکام ہمارے سلسلہ کے خلاف کیا کرتے تھے اس لئے میرے دل میں دوسروں کی نسبت زیادہ غیرت پیدا ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ کا قانون ان ساری چیزوں سے بالا ہے اور خدا تعالیٰ کی مشیت ان ساری چیزوں سے بالا ہے۔ بسا اوقات ایک چیز بری نظر آتی ہے مگر اپنے نتائج کے لحاظ سے اچھی ہوتی ہے اور بسا اوقات انسان قانون کی پابندی کو اپنے لئے تکلیف دہ سمجھتا ہے مگر کامیابی کے لئے اس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم ہے کہ تم جس حکومت میں رہو اُس کی بغاوت نہ کرو اور نہ کبھی اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔ بظاہر پچھلے کانگرس کے جھگڑوں کو دیکھتے ہوئے اس اصل کی کمزوری ثابت ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ایک وقت خواہ اس اصل پر کار بند ہونا دو بھر معلوم ہوتا ہو دنیا کو تاریخ پر مجموعی طور پر نظر ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ یہی اصل دُنیا میں امن کے قیام کا ذریعہ ہے۔ پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص یا چند اشخاص سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا تعالیٰ نے اس قوم کے اندر جس کے بعض افراد کے ذریعہ تکلیف پہنچی ہوتی ہے کوئی بھلائی پوشیدہ رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اب ہمارا نفس تو یہ کہتا ہے کہ ہمیں ساری قوم سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہئے مگر خدا جو عالم الغیب ہے وہ جانتا ہے کہ انجام کے لحاظ سے کونسی بات مفید ہو سکتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو انگریزی حکومت میں پیدا کیا ۔ مگر بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فعل بتاتا ہے کہ اسی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اور اس کے قوانین سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ترقی کرے گی ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور موقع پر بیان فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب انگریزوں اور روسیوں کی جنگ ہو گی ۔ آپ فرماتے ہیں یہ خطرناک جنگ جو ہونے والی ہے اس وقت نہ معلوم ہم زندہ ہوں یا نہ ہوں اس لئے ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے