خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 375

خطبات محمود ۳۷۵ سال ۱۹۳۹ء صرف خطابات کے حصول یا محمہدوں کی زیادتی کی غرض سے ہیں۔وہ ہم سے ہی بد دیانتی کا تی معاملہ نہیں کر رہے بلکہ ملک معظم اور برطانوی حکومت سے بھی ان کا معاملہ منافقانہ ہے اور خواہ کی وہ انگریز ہوں یا ہندوستانی وہ اپنی قوم ہی کے لئے نہیں انسانیت کے لئے بھی موجب عار اور ننگ ہیں اور برطانوی حکومت کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کے عصر کو جس قد رجلد ہو سکے ذلیل اور رسوا کر کے الگ کر دیا جائے۔مگر ان سب جذبات کے باوجود میں اس تعلیم کے دینے پر مجبور ہوں جو میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کی تھی اور میں اس پر بھی مجبور ہوں کہ جو نو جوان اس سے اختلاف کا اظہار کریں انہیں غلطی پر قرار دوں اور سلسلہ کی تعلیم کو نظر انداز کرنے والا قرار دوں۔میرے نزدیک ہر اہم قدم جو انسان اُٹھاتا ہے اس سے پہلے اسے اپنے مختلف مصالح اور اپنے مختلف جذبات کے درمیان ایک فیصلہ کرنا پڑتا ہے جو اسے مختلف فیصلوں کی طرف کھینچ رہی ہوتی ہے۔عقلمند انسان ایسے مواقع پر اس مصلحت کے مطابق جو سب سے اہم ہو اور ان جذبات کے مطابق جو سب سے مقدس ہوں فیصلہ کر دیتا ہے اور دوسری مصلحتوں اور دوسرے جذبات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔کبھی دین اور دنیا کا مقابلہ ہو جاتا ہے تو وہ اگر دیندار ہو دینی مصالح کو دنیوی مصالح پر مقدم کر لیتا ہے، کبھی تمدن اور شخصی حقوق کا مقابلہ ہو جاتا ہے تو وہ تمدن کے مطالبہ کو پورا کرتے ہوئے اپنے شخصی حقوق کو نظر انداز کر دیتا، کبھی تہذیب اور وحشت کا مقابلہ ہو جاتا ہے تو وہ تہذیب کے مطالبہ کو پورا کرنے ہوئے اپنے وحشیانہ جذبات کو قربان کر دیتا ہے۔میں نے گزشتہ دو جلسوں کی پر تمدن کے متعلق اپنی تقریروں میں ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تمدن کے معنی بعض جگہ اپنے حقوق کو نظر انداز کر دینے کے بھی ہوتے ہیں۔ایک شخص کا گھر سینکڑوں سال سے چلا آتا ہے اس کے آباء واجداد کے تعلقات اس سے وابستہ ہوتے ہیں اور اس مکان کے ایک ایک کو نہ سے اُسے محبت ہوتی ہے۔کسی کو نہ کی طرف وہ آنکھ اُٹھاتا ہے تو کہتا ہے یہاں میرے دادا جان کی چار پائی ہوا کرتی تھی ، دوسرے کو نہ کی طرف دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہاں میری دادی جان کی چار پائی ہوا کرتی تھی ، تیسرے کو نہ کی طرف دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہاں میرے والد صاحب کی چار پائی ہوا کرتی تھی اور چوتھے کو نہ کی طرف دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہاں میری اماں جان کی