خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 376

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء چار پائی ہوا کرتی تھی لیکن کبھی وہ مکان سڑک کے مقابل آجاتا ہے اور گورنمنٹ کو وہ مکان جبراً اُٹھا دینا پڑتا ہے۔ایسے وقت میں شخصی جذبات کے ماتحت شائد اسے یہ خیال بھی آجائے کہ میں کی اس موقع پر قربان ہو جاؤں مگر اپنے باپ دادوں کی نشانی مٹنے نہ دوں لیکن ایک متمدن انسان ہونے کی حیثیت سے وہ کہے گا کہ بے شک یہ ایک تلخ گھونٹ ہے جو مجھے پینا پڑے گا لیکن اگر میرے شہر یا میرے ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ میں اپنے مکان کو قربان کر دوں تو بہر حال چونکہ جس چیز کو قربان کرنا ہے وہ چھوٹی ہے اور جس کے لئے قربانی کرنی ہے وہ بڑی ہے اس کی لئے آؤ میں اسے اپنے ملک یا اپنے شہر کے فائدہ کے لئے قربان کر دوں۔بعض نوجوان جب عام جنگ کا اعلان سنتے ہیں تو اس سے ایک دو دن پہلے ہی وہ شادیاں کر کے بیویوں کو گھر پر لائے ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ اپنی قوم کی خاطر جنگ پر چلے ہی جاتے ہیں۔ان کے شخصی جذ بات انہیں بالکل اور طرف لے جا رہے ہوتے ہیں مگر ان کے ملی اور قومی جذبات انہیں اور طرف لے جارہے ہوتے ہیں۔ان کے شخصی جذبات انہیں کہتے ہیں کہ ہم اپنا گھر کیوں برباد کریں مگر ان کے ملی جذبات انہیں کہتے ہیں کہ قوم کی ضرورت ہماری ضرورت سے بالا ہے اگر ہم جنگ پر جاتے ہیں تو شائد چند ایک عورتیں بیوہ ہو جائیں گی لیکن اگر ہم نہیں جاتے اور ہمیں دیکھتے ہوئے اور آدمی بھی اپنے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں تو ایک نہیں سارے ملک کی عورتیں بیوہ ہوں گی۔پس وہ شخصی مطالبات کو قربان کر دیتے ہیں اور قومی مطالبات کو پورا کر دیتے ہیں۔اسی طرح بعض مواقع پر ایک طرف قومی جذبات ہوتے ہیں تو دوسری طرف اخلاقی فرض کی اور سچ کا مطالبہ اس حالت میں ہر متمدن انسان کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ بجائے قومی جذبات کی اقتداء کرنے کے سچ اور اخلاق کے مطالبات کو پورا کرے مثلاً اسلامی تعلیم کے ماتحت ہم کسی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اس سے بغاوت نہیں کر سکتے۔اب خواہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ ہماری قوم پر ظلم ہو رہا ہے، جماعت پر ظلم ہورہا ہے لیکن قرآن یہی کہے گا کہ نہیں تم نے بغاوت نہیں کرنی۔ہاں جب بات حد سے گزر جائے اور پانی سر سے گزر جانے والا معاملہ ہو جائے تو پھر تم اس ملک کو چھوڑ دو مگر بغاوت پھر بھی نہ کرو۔اُس وقت یہ تو نہیں ہوتا کہ مومن ڈر کی وجہ سے خاموش ہوتا ہے۔مومن کو اپنی جان کی پرواہ نہیں ہوتی۔اگر خدا اُسے اجازت دے