خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 359

خطبات محمود ۳۵۹ سال ۱۹۳۹ء کی وجہ سے لوگوں کے دلوں سے دُعاؤں پر ایمان جاتا رہا ہے بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ بعض احمدیوں کی دُعا ئیں بھی رسمی ہوتی ہیں ۔ دوسرے احمدی دُعا کرتے ہیں اس لئے وہ بھی شریک ہو جاتے ہیں مگر دُعا قبول وہی ہوتی ہے جس کے ساتھ یقین ہو اور یہ مقام عارف کو ہی حاصل ہوتا ہے ۔ مومن کو تو اللہ تعالیٰ کا ہاتھ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی نظر آتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ تھے چلتے چلتے جب ان کا گھوڑا رکتا تو وہ سمجھ لیتے کہ میں نے کوئی گناہ کیا ہے ۔ انسان کا نفس خدا تعالیٰ کی سواری کے لئے بمنزلہ گھوڑے کے ہے اور جب وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو میرا گھوڑا بھی میری نافرمانی کرتا ہے تو عارف ہر چیز میں خدا تعالیٰ کا نشان دیکھتا ہے۔ مگر نادان بڑے بڑے نشانات سے بھی یونہی گزر جاتا ہے لیکن حق یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک مقام ایسا ہے کہ اس میں وہ ہر کافر و مومن کی دُعاسُنتا ہے اور اس میں کوئی امتیاز نہیں کرتا ۔ قرآن کریم میں یہ دونوں مضمون علیحدہ علیحدہ بیان کئے گئے ہیں ۔ ایک جگہ فرماتا ہے امن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ ہے اور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ سے کئی نادان اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہے۔ ایک جگہ تو فرماتا ہے کہ میں مضطر کی دُعا سنتا ہوں اور ایک جگہ یہ کہ میں ہر پکارنے والے کی دُعا سنتا ہوں لیکن یہ اعتراض محض عدم تدبر کی وجہ سے ہے۔ اجيب دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ سورۂ بقرہ میں ہے۔ وہاں رمضان کا ذکر ہے اور اس سے پہلے یہ سوال درج ہے کہ إذا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قريب یعنی جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں وہ بے قرار اور بے تاب ہو کر آئیں اور دریافت کریں کہ ہمارا خدا کہاں ہے تو ان سے کہہ دو کہ میں قریب ہوں اُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۔ میں اس پکارنے والے کی دُعا سُنتا ہوں جو بے قرار اور بے تاب ہو کر پاگل کی طرح چیختا اور دریافت کرتا ہے کہ میرا خدا کہاں ہے؟ تو یہاں الداء سے مراد لقاء الہی کی دُعا کرنے والا ہے۔ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ چنانچہ فرمایا الذين جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا کے یعنی جو لوگ ہمارے ملنے کے لئے کوشش کرتے ہیں ہمیں اپنی ذات کی قسم ہم انہیں کئی رستے اپنے ملنے کے دکھا دیتے ہیں ۔ اگر دل میں جلن ،