خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 347

خطبات محمود ۳۴۷ سال ۱۹۳۹ء جس عزت اور جس مال میں زوال آچکا ہے، جس پر موت آ چکی ہے ، تم اس حقیر ذلیل اور بے حقیقت چیز کو ہماری خاطر بھی قربان کر دیکھو۔پھر دیکھو اس موت کے بعد کیا ہوتا ہے۔فرماتا ہے فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوْتُوا خدا نے ان کو کہا کہ مر جاؤ اور اپنے لئے ایک موت قبول کر لو۔ثُمَّ أَحْيَاهُمُ۔جب اُنہوں نے ہماری خاطر یہ موت قبول کر لی تو ہم نے ان کو زندہ کر دیا۔گویا جو موت انہوں نے اپنے نفس، اپنے آرام، اپنی عزت اور اپنی ترقی کے لئے قبول کی تھی وہ تو قطعی اور یقینی موت بن گئی مگر وہ موت جو خدا تعالیٰ کے لئے انہوں نے اپنے آپ پر وارد کی تھی وہ ان کی زندگی کا موجب بن گئی۔یہاں تک کہ فرعون کے گھروں کے پتھیر ے شام اور فلسطین کے بادشاہ ہوئے ، بابل اور ایران پر انہوں نے حکومتیں کیں اور پھر اُنہی پتھیر وا میں سے داؤد جیسا عظیم الشان بادشاہ پیدا ہوا جس کے جہاز ایشیا اور ایران اور یورپ تک جاتے تھے اور دنیا کے تمام خزانے اس کے پاس جمع تھے۔یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ صرف اس لئے کہ جب ان پر موت آ رہی تھی تو خدا تعالیٰ نے ان سے کہا کہ آؤ میں تمہیں اپنا معجزہ دکھاؤں۔دنیا میں تو کسی مُردہ کو زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے مگر وہ اپنی اس معجز نمائی کے لئے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔دنیا میں مُردہ قوموں کو زندہ کیا کرتا ہے۔جب کوئی قوم کر رہی ہو تو وہ اس کی مثال کو دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ تم اس بات پر ایمان نہیں لاتے کہ میں مردوں کو زندہ کر سکتا ہوں۔آؤ اور اس قوم کو دیکھو۔میں اسے زندہ کر کے دکھاتا ہوں یا نہیں۔پھر وہ اس قوم کی طرف مخاطب ہوتا اور فرماتا ہے کہ تم اب ہماری کی خاطر مر جاؤ اور ہماری خاطر اپنی جانوں اور اپنے مالوں پر موت وارد کر لو پھر دیکھو میں تمہیں زندہ کرتا ہوں یا نہیں۔چنانچہ جب وہ قوم اللہ تعالیٰ کے لئے موت کو قبول کر لیتی ہے تو خدا تعالیٰ اُسے زندہ کر دیتا ہے۔سوائے عزیز و ا تم جس قوم کے ساتھ تعلق رکھتے ہو اس کی پہلی شان و شوکت کو دیکھتے ہوئے تم دنیا کے بدترین اور ذلیل وجود ہو۔اپنے آباء کے لئے نگ، خاندانوں کی عزت برباد کرنے کی والے اور باپ دادوں کی شہرت کو خاک میں ملانے والے۔خدا تعالیٰ نے تمہاری اس موت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو تمہاری طرف مبعوث فرمایا ہے اور وہ آج تم سے