خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 342

خطبات محمود ۳۴۲ سال ۱۹۳۹ ء ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا آج جو سلوک ہمارے ساتھ ہوا ہے اس سے زیادہ ذلت کا سلوک اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ وہ شہر جس میں ہمارے باپ دادوں نے حکومت کی اسی شہر میں یہ لوگ جو ہمارے غلام تھے اور مکہ میں ذلیل ترین وجود سمجھے جاتے تھے آج ایک ایک کر کے ہمارے آگے بٹھائے گئے اور ہمیں پیچھے ہٹاتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ ہم جوتیوں میں بیٹھے اس سے زیادہ ذلت اور رسوائی کی اور کوئی بات نہیں ہو سکتی ۔ یہ گفتگوسن کر ان میں سے ایک جو زیادہ شریف تھا وہ بولا اور اس نے کہا کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ یہ بات سن کر سب شرمندہ ہو گئے ۔ وہ کہنے لگا جب ہم نے اور ہمارے باپوں نے خدا کے رسول کا انکار کیا تھا اس وقت یہ لوگ ایمان لائے تھے ۔ پس چونکہ یہ پہلے ایمان لائے اس لئے ان کو یقیناً ہم پر فضیلت حاصل ہے اور یہ ہمارا ہی قصور ہے کہ ہم وقت پر ایمان نہیں لائے ۔ تب اُنہوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا کہ کیا اس ذلت کو مٹانے کا کوئی ذریعہ بھی ہے یا نہیں اور کیا اس گناہ کا کوئی کفارہ نہیں؟ انہوں نے کئی تدبیریں سوچیں ۔ کسی نے کہا ہم اپنی جائدادیں اسلام کی راہ میں دے دیں، کسی نے کہا ہمیں چاہئے کہ ہمارے پاس جس قدر روپیہ ہے وہ سب قربان کر دیں، مگر کسی بات پر ان کا اطمینان نہ ہوا اور آخر ا نہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چلو حضرت عمرؓ کے پاس ہی چلیں اور انہی سے دریافت کریں کہ اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں؟ حضرت عمر چونکہ اچھے خاندان میں سے تھے اور وہ شریف خاندانوں کی عزت و عظمت کو سمجھتے تھے اس لئے ان کا خیال تھا کہ حضرت عمر ہمیں کوئی ہمدردانه مشوره در مشورہ دیں گے ۔ چنانچہ اُنہوں نے اجازت طلب کی اور حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا کہ ہم ایک مشورہ لینے کے لئے آئے ہیں ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہو کیا بات ہے۔ اُنہوں نے کہا آج ہم آپ کی مجلس میں آئے اور ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے بعض اور لوگوں کے آنے پر ہمیں پیچھے ہٹانا شروع کر دیا یہاں تک کہ ہم جو تیوں میں بیٹھنے پر مجبور ہوئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میری مجبوری کو سمجھ سکتے ہو۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور میرے لئے ضروری تھا کہ میں ان کو عزت و تکریم سے بٹھاتا۔ اُنہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے ایک بہت بڑی ذلت اپنے لئے مول لی مگر اب ہمیں