خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 340

خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۳۹ء کوئی نہ کوئی احسان نہ ہو۔ہر شخص ہم میں سے اس کا ممنونِ احسان تھا اور ہم میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جو اس کی طرف ہاتھ بڑھا سکے۔اہلِ عرب میں احسان مندی کا جذ بہ نمایاں طور پر پایا جاتا تھا جسے اسلام نے اور بھی زیادہ بڑھا دیا۔پس اس جذبۂ امتنان کی وجہ سے صحابہ میں سے کوئی شخص یہ جرات نہیں کرتا تھا کہ اُسے رو کے اور پھر اس سے وہی جواب سُنے جو اس نے پہلے شخص کو دیا تھا۔تب ان میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے زور سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر مار کر کہا۔خبردار! جو تو نے اپنا نا پاک کی ہاتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھایا۔اس نے پھر نظر اٹھائی اور تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد اس نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور کہا ابوبکر ! تم پر میرا کوئی احسان نہیں۔پس ایک ابو بکر ہی تھا جس پر اُس کا کوئی احسان نہیں تھا باقی سب صحابہ ایسے تھے کہ ان میں سے ہر ایک پر اس کا کوئی نہ کوئی احسان تھا۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ اُن سرداروں کی کیا حیثیت تھی۔پس عمائد اور سردار جو اہل مکہ کے تھے ان کی شان بالکل اور تھی۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ نوجوان تھے ، بالخصوص حضرت ابو بکر ایک بڑھنے اور ترقی کرنے والے نوجوان تھے اور بہت سے لوگوں کی اُن پر نظریں اُٹھتی تھیں اور وہ خیال کرتے تھے کہ کسی دن یہ قوم کا سردار ہو جائے گا کیونکہ ان کے احسانات بھی بہت لوگوں پر تھے۔مگر بہر حال سردارانِ قوم کے مقابلہ میں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ جب مکہ فتح ہو گیا تو ان لوگوں کی کیا حیثیتیں رہ گئی ہوں گی جو قوم کے سردار اور عمائد سمجھے جاتے تھے۔فتح مکہ کے بعد پہلی حکومت بدل گئی وہ جو کبھی سردار سمجھے جاتے تھے ان کی سرداریاں جاتی رہیں اور وہ جنہیں ذلیل اور حقیر سمجھا جاتا تھا وہ اُن کے حاکم اور سردار بن گئے۔اس طرح زمانہ گزرا اور گزرتا چلا گیا پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عہد آ گیا۔پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عہد آ گیا۔ایک دفعہ حضرت عمر حج کے لئے مکہ تشریف لے گئے تو ان کی ملاقات کے لئے لوگ