خطبات محمود (جلد 20) — Page 324
خطبات محمود لله اله سال ۱۹۳۹ ء ادنی درجہ کی بات ہے مگر ریل کے افسر اس ادنی درجہ کی بات سے اس قدر متاثر تھے گوان کی تعداد چار پانچ ہی تھی لیکن دوسرے لوگ بھی ان کی باتوں سے یہی اثر قبول کرتے ہوں گے کہ احمدی واقعی اچھے لوگ ہیں مگر اب بعض دکانداروں کے افعال کی وجہ سے یہ نیک نامی بھی جاتی رہے گی اور میں نے سُنا ہے کہ بعض لوگ ٹکٹ تک لے کر نہیں آتے ۔ ایسی کارروائیاں جماعت کی بدنامی کا موجب ہیں اور میں ان لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں جنہوں نے ایسے افعال کئے کہ آئندہ پر ہیز کریں اور گزشتہ کے لئے توبہ کریں۔ تھوڑا سا حرام مال تمام حلال کو خراب کر دیتا ہے خواہ آپ لوگ سال میں دو سو دن تبلیغ کے لئے وقف کر دیں لیکن اگر ایسی باتوں سے پرہیز نہ کریں گے تو تمام کوششیں بے کار ہوں گی ۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صالحا سے اگر رزق طیب نہ ہو تو عملِ صالح کی بھی توفیق نہیں ملتی ۔ یہ ذلیل باتیں ہیں ان سے رزق نہیں بڑھتا ۔ ہاں یہ ایمان کو ضرور بگاڑ دیتی ہیں ۔ یہ ذرائع مال کمانے کے نہیں کروڑ پتی اور ارب پتی لوگ اس طرح مال جمع نہیں کرتے اور اگر یہ مال بڑھانے کے ذرائع ہوں بھی اور کوئی کہے کہ یہ جائز ہیں تو پھر چوری بھی جائز ہے۔ اگر بعض لوگ یہ کریں کہ ایسے شخص کے گھر سے مال نکال لائیں تو اسے اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوگا اور اگر وہ قاضی کے سامنے مقدمہ لے جائے تو اسے یہی کہنا چاہئے کہ آپ نے دوسروں کا مال چُرایا اور دوسروں نے آپ کا پچر ا لیا۔ مومن کو ہر موقع پر اچھا نمونہ دکھانا چاہئے تا دوسروں پر اثر ہو۔ اللہ تعالیٰ بھی انہی لوگوں کی مدد کرتا ہے جو جائز ذرائع اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ان الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ ۔ تم لوگوں پر احسان کرنے والے بنو تو میں تم سے محبت کروں گا۔ چاہئے کہ لوگوں پر تمہارا احسان ہو ۔ یہ کتنا ظلم ہو گا کہ ایک احمدی خدا تعالیٰ سے محبت کی تو اُمید رکھتا ہو اور ایسی جماعت میں داخل ہو جس میں داخل ہونے سے دکھ اور تکالیف بڑھتی ہیں مگر عمل یہ ہو کہ اس رسی کو چھوڑ کر جس سے خدا ملتا ہے دوسری طرف لگ جائے ۔ اس قسم کے اخلاق نہایت ادنی ہوتے ہیں اور کفار میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئی بار سُنا ہے کہ ایک انگریز بیرسٹر راٹیکین نام تھا اسے اگر کسی مقدمہ کے دوران میں بحث کرتے کرتے بھی یہ ثابت ہو جاتا کہ جس کا کیس وہ ثابت کر رہا ہے