خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 314

خطبات محمود ۳۱۴ سال ۱۹۳۹ء یہ کتنی دفعہ غلطیاں کرتا ہے ، فرائض چھوڑتا ہے، غفلت سے کام لیتا ہے اور دو چار سال گزرتے کی ہیں تو کہتا ہے میں کتنے عرصہ سے کام کر رہا ہوں اب مجھے آرام کرنا چاہئے حالانکہ دوسری چیزوں کے مقابل پر جن کو یہ خادم قرار دیتا ہے اس کا عمل کتنا حقیر ہوتا ہے۔اگر انسانی عمل کو فوقیت دی جاتی ہے تو اس لحاظ سے کہ اس کا عقل کے ساتھ تعلق ہوتا ہے مگر بیسیوں دفعہ یہ کام کوٹلا دیتا ہے۔کبھی وقت پر حاضر نہیں ہوتا، کبھی اس وقت میں دوسرے کام کرنے لگ پڑتا ہے۔اگر اس غفلت کے زمانہ کو نکال دیا جائے تو در حقیقت پانچ چھ سال کا زمانہ کام والا نکلتا ہے باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن یہ قدر نہیں کرتا۔میں سمجھتا ہوں کہ انسان کو جو اتنی چھوٹی عمر دی گئی ہے تو یہ اس پر احسان کیا گیا ہے کہ اتنے لمبے عرصہ تک اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتا اور اس کی کمر اس بوجھ سے ٹوٹ جائے گی حالانکہ دوسرے جانوروں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔امریکہ میں ایک کچھوا ہے جس کی عمر سینکڑوں سال سے زیادہ ہے اور اب تک وہ زندہ ہے۔کہتے ہیں بعض کچھووں کی عمر عموماً ہزار ہزار سال ہوتی ہے اور بے جان چیزوں کی عمر کا کی تو ٹھکا نہ ہی نہیں۔تو انسان کو اپنے اعمال میں ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کے ذمہ اہم کام ہیں پھر کھانے پینے سونے میں عمر کا بہت سا حصہ صرف ہو جاتا ہے، ایک حصہ بچپن کا ضائع ہو جاتا ہے اور ایک حصہ بڑھاپے کا۔گو یا مثال کے مکئی کے پودے کی سی ہے کہ اس کا اوپر کا حصہ بھی رڈی ہوتا ہے اور نچلا حصہ بھی رڈی ہو جاتا ہے اور بیچ میں چند دانے ہوتے ہیں اور اسی طرح درمیان میں انسان کے لئے کام کا وقت آتا ہے اگر اس میں بھی وہ کام نہ کرے تو کتنے افسوس کی بات ہے جب کام کا وقت نکل گیا تو سوائے پچھتانے کے اور کیا ہو سکتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ اس عرصہ میں کام کرتا ہے تو بہت عظیم الشان کام کر لیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۳ سال عمر پائی ہے لے جو کہ زیادہ نہیں۔ہر زمانہ میں سو سوا سو سال کی عمر پانے والے سینکڑوں لوگ پائے جاتے ہیں اور میں نے احمدیوں میں بھی کئی ایسے دیکھے ہیں۔اس لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر نصف کے قریب بنتی ہے مگر آپ نے اس تھوڑے سے عرصہ میں وہ عظیم الشان کام کیا جس کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ عظیم الشان اس لحاظ سے تھے کہ آپ نے سمجھا کہ میرے ذمہ عظیم الشان کام ہے