خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 300

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء دوگنی طاقت ہے اور انگلستان سے ڈیوڑھے ہوائی جہاز اس کے پاس موجود ہیں حالانکہ ابھی اس کی نظام کو قائم ہوئے بہت قلیل عرصہ ہوا ہے مگر ان کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ان میں ایک عام حکم جاری کیا جاتا ہے اور ساری قوم بلا چون و چرا اس کے پیچھے چل پڑتی ہے۔لڑکی کی اصلاح بھی اسی وجہ سے ہوئی ہے بلکہ اس لحاظ سے کہ ٹر کی ایک چھوٹا سا ملک تھا جس کی اخلاقی حالت بھی سخت گری ہوئی تھی اور چاروں طرف سے دُشمنوں نے اسے رگید ا ہو ا تھا۔ٹرکی کی ترقی روس سے بھی زیادہ عظیم الشان ہے۔لڑکی ایک مُردہ قوم تھی جو محض اس کی نظام کی وجہ سے یکدم ترقی کر کے کہیں کی کہیں پہنچ گئی۔چنانچہ گجا تو یہ حالت تھی کہ فرانس اور انگلستان والوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہماری فوجیں قسطنطنیہ میں رہیں گی اور ہماری اجازت کے بغیر تمہارا با دشاہ کوئی حکم نافذ نہیں کر سکے گا جو حکم بھی تم دینا چاہو گے تمہارے لئے ضروری ہوگا کہ تم پہلے اسے ہمارے سامنے پیش کرو اور ہماری منظوری کے بعد اسے نافذ کرو اور گجا یہ حالت ہے کہ آج فرانس اور انگلستان کے سفیر ٹرکی کی منتیں کرتے ہیں کہ تم ہمارے سمجھوتہ میں شامل ہو جاؤ اور ٹر کی کہتا ہے کہ ہم اس وقت تک اس معاہدہ میں شامل نہیں ہو سکتے جب تک ہمیں فلاں علاقہ واپس نہ دیا جائے جو غاصبانہ طور پر ہم سے لے لیا گیا تھا اور انگلستان والے فرانس پر زور دیتے ہیں کہ یہ علاقہ لڑکی کو ضرور واپس دے دو اور اسے اس معاہدہ میں شامل ہو نے دو کیونکہ لڑکی کے بغیر جرمنی اور اٹلی سے لڑائی کرنا ہمارے لئے سخت مشکل ہے اور فرانس اس بات پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اُسے وہ علاقہ واپس دے دے۔گویا وہ ملک جس کے بادشاہ کو بھی کسی زمانہ میں یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ فرانسیسی اور انگریز سفیروں سے مشورہ لئے اور ان کی منظوری حاصل کئے بغیر کوئی حکم دے سکے۔آج وہ فرانس اور انگلستان کی برابری کا ہی دعوی نہیں کرتا بلکہ جب اسے سمجھوتہ میں شریک ہونے کے لئے کہا جاتا کی ہے تو وہ کہتا ہے پہلے ہمارا فلاں علاقہ واپس دے دو پھر کوئی اور بات ہوگی اور فرانس اس بات پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ علاقہ اسے واپس کرے مگر یہ اُسی نظام کا اثر ہے جو مصطفی کمال پاشا نے ان میں جاری کیا۔اس کے بعد اٹلی کی باری آئی یہ بھی گرا ہو املک تھا اور روس کی طرح ہی اس کا حال تھا۔پرانی شان و شوکت کے اثر کے ماتحت وہ ایک بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا مگر۔