خطبات محمود (جلد 20) — Page 296
خطبات محمود ۲۹۶ ۲۰ سال ۱۹۳۹ء جماعت احمدیہ میں نظام خلافت کی برکات (فرمودہ ۷ جولائی ۱۹۳۹ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں پہلے تو اس امر پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ ابھی اس مسجد کے بعض کو نے سائبانوں کے بغیر نظر آرہے ہیں اور وہاں بیٹھنے والوں کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں۔حالانکہ جب میں نے ادھر توجہ دلائی تھی اُس وقت سے لے کر اب تک کافی عرصہ گزر چکا ہے اور اگر منتظمین چاہتے تو وہ آسانی سے اس ضرورت کو درمیانی عرصہ میں پورا کر سکتے تھے۔میرے پہلی بار توجہ دلانے پر چار پانچ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور دوسری دفعہ کی توجہ پر بھی دو ماہ بلکہ اس سے کچھ زائد ہی ہو گئے ہیں۔اس وقت مجھے بظاہر دو نئے سائبان لگے ہوئے معلوم نتظمین ہوتے ہیں یا ایک ہی سائبان ہے جس کے دوحصے ہیں مگر بہر حال وہ کافی نہیں اور جب نت اس کا انتظام کرنے لگے تھے تو انہیں چاہئے تھا کہ مسجد کو ناپ لیتے اور دیکھ لیتے کہ سائبان سے ساری جگہ ڈھک جائے گی یا نہیں۔اس کے بعد میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت دُنیا میں ایک عملی تغیر پیدا ہو رہا ہے۔پہلے انفرادی طور پر آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی تھی مگر اب قومی طور پر جماعتوں کی اصلاح کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔سب سے پہلے یہ آواز دُنیوی اقوام میں ۱۹۱۷ء میں لینن نے اُٹھائی ہے۔اس کے بعد اس کی نقل ترکی میں مصطفی کمال پاشا نے کی۔