خطبات محمود (جلد 20) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۹ء سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حتی کہ تن کے کپڑے بھی دے دیئے اور خود قرض لے کر اور کپڑے بنوا کر پہنے۔کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کے مقابلہ میں ان کے نزد یک ساری دولت کی کوئی حقیقت نہ تھی۔پس میں تحریک کرتا ہوں کہ دوست کوشش کریں کہ وقت سے پہلے تحریک جدید کے وعدے پورے ہو جائیں۔پھر اس کے دوسرے حصوں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے کہ وہ بھی بہت اہم اور ضروری ہیں اور قومی کیرکٹر کو بنانے میں بہت مد ہیں۔مثلاً ایک ہی کھانا کھانا سوائے دعوت کے موقع کے یا جمعہ یا عیدین کے موقع کے۔تو جن حدود کے ساتھ اس کے دوسرے حصے مشروط ہیں ان کو بھی پورا کرنے کی طرف جماعت کو توجہ دلانی ضروری ہے۔اس تحریک کے دوسرے حصوں کی میں ایک کھانا کھانا اتنا اہم حصہ ہے کہ اس پر عمل کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ اپنے اندر کسی قدر وسیع فوائد رکھتا ہے۔یا د رکھنا چاہئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی نہایت اہم اثر پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔جب کانگرسیوں پر مقدمات دائر ہونے لگے اور گاندھی جی بھی گرفتار ہوئے تو اُنہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنا کوئی ڈیفنس پیش نہیں کریں گے اور سب کا نگرسیوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔عام لوگوں حتی کہ انگریزوں نے بھی سمجھا کہ وہ ضد کرتے ہیں حالانکہ یہ ضد نہ تھی بلکہ اتنی چھوٹی سی بات اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتی تھی لیکن میرا خیال ہے بہت سے کانگرسیوں نے بھی اسے نہیں سمجھا ہو گا۔بات یہ تھی کہ اگر دفاع کی اجازت ہوتی تو گاندھی جی کے لئے تو ملک کے بہترین وکلاء مثلاً سرسپرہ اور مسٹر جیکر وغیرہ سب جمع ہو جاتے لیکن جو غرباء کی گرفتار ہوتے ان کے دفاع کے لئے کوئی نہ جاتا۔گاندھی جی نے خیال کیا کہ اس طرح بے چینی پیدا ہو گی اور غرباء خیال کریں گے کہ بڑے بڑے لوگوں کے لئے تو اس قد را نتظامات اور سامان مہیا ہو جاتے ہیں مگر غرباء کو کوئی نہیں پوچھتا اور اگر سب کے لئے بڑے بڑے وکلاء پیش ہونا بھی چاہتے تو نہ ہو سکتے۔مقدمات تو سارے ملک میں چل رہے تھے وہ ہر جگہ کس طرح پیش کی ہو سکتے تھے اور اس طرح ان کی خواہش اور ارادہ کے باوجو د شکوہ کا موقع باقی رہتا۔گو وہ شکوہ کی کتنا ہی غیر معقول اور خلاف عقل کیوں نہ ہوتا مگر لوگ یہی کہتے کہ غرباء کو کوئی نہیں پوچھتا اور کثیر اخراجات کے باوجود شکایت باقی رہتی۔