خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 29

خطبات محمود ۲۹ سال ۱۹۳۹ء چاہئے کہ خود براہ راست وعدے بھیج دیں اور اگر اُنہوں نے خود بھی نہ بھیجے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ عہد یداران کی سستی میں وہ خود شامل ہیں ہے ( الفضل ۳ مارچ ۱۹۳۹ء) ما خطبه تاریخ گزرنے کے بعد شائع ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے مخلصین غیر معمولی اخلاص کا ثبوت دے چکے ہیں اور وعدے گزشتہ سال سے بڑھ گئے ہیں۔اَلْحَمْدُ اللهِ عَلَى ذَالِکَ۔میں اس خطبہ کی شرائط میں اس قدر اصلاح کرتا ہوں کہ جنہوں نے کی سیکرٹریوں سے وعدہ لکھنے کو کہا اور اُنہوں نے وعدہ نہ بھیجوایا اگر وہ بعد میں اس کا علم ہونے پر نام لکھوانا چاہیں تو لکھوا سکتے ہیں۔نیز یہ بھی یادر ہے کہ چونکہ اب دس سالہ میعاد مقرر ہے اور حقیقی طور پر الہی فوج کے سپاہی وہی کہلا سکتے ہیں جو دسوں سال حصہ لیتے رہے ہیں۔اس لئے جن لوگوں نے سابق میں معافی لے لی تھی وہ اگر ان کامل سپاہیوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو انہیں گزشتہ رقوم بھی ادا کرنی چاہئیں ورنہ وہ دس سالہ قربانی کرنے والوں میں شامل نہیں ہو سکتے۔ہاں اپنی قربانی کے مطابق ثواب ضرور حاصل کر لیں گے۔پس جنہوں نے کسی سابق سال کا چندہ نہیں دیا یا معافی لے لی تھی اور اب وہ دس سالہ سکیم میں شامل ہونے کی تڑپ رکھتے ہیں انہیں اب گزشتہ کی تلافی کر لینی چاہئے۔ہاں ان کی سابقہ رقوم کی ادائیگی کے لئے محکمہ مناسب سہولت دے سکتا ہے جس کا فیصلہ وہ محکمہ سے بذریعہ خط و کتابت کر لیں۔