خطبات محمود (جلد 20) — Page 288
خطبات محمود ۲۸۸ سال ۱۹۳۹ء موجود ہیں جو لاکھ لاکھ اور دو دو لاکھ روپیہ ماہوار کماتے ہیں حالانکہ ہندوستان ایک گرا ہو املک ہے۔اس کے مقابلہ میں سترہ روپیہ کی حیثیت ہی کیا ہے لیکن اگر اس معمولی سی رقم کی بجائے وہ چیز مل جائے جس کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا اور ایسی تکلیف کے وقت میں ملے جب کہ ہر شخص ایک مصیبت میں مبتلا ہو گا اور کہے گا کہ کاش میری دولت کا چوتھا حصہ لے لیا جائے ، کاشکی نصف لے لیا جائے بلکہ ساری دولت میری لے لی جائے اور اس انعام میں سے مجھے کچھ حصہ مل جائے تو غور کرو یہ کتنا بڑا انعام ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے روز کافر کہیں گے کہ کاش ہماری ساری دولت لے لی جائے اور ہمیں کوئی ثواب بے شک نہ ملے مگر اس عذاب سے نجات مل جائے شے اور جن لوگوں کو ایک معمولی سی قربانی کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کا وعدہ ہے وہ اگر اس پر اس دُنیا کے معمولی نفع کو ترجیح دیں تو ان کی نادانی میں کیا شک ہے مگر کئی ایسے نادان ہیں جو معمولی سی قربانی کرنے کے بعد چاہتے ہیں کہ اسی دُنیا کی میں ان کو نفع پہنچے اور جب نہیں پہنچا تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا۔ہم سے قربانی کرالی گئی مگر بدلہ کوئی نہیں ملا۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ استاد نے مجھ سے چار روپیہ فیس تو لے لی مگر اس کے عوض مجھے دیا کچھ نہیں اور یہ نہیں سمجھتا کہ اس نے جو علم سکھایا ہے وہ کی چار کروڑ روپیہ سے بھی زیادہ قیمتی ہے جو طالب علم فیس کے بدلہ میں اُمید رکھتا ہے کہ اسے استاد کی طرف سے روپیہ ملے گا وہ کبھی خوش نہیں ہو سکتا اور اطمینان حاصل نہیں کر سکتا لیکن جو یہ سمجھتا ہے کہ اس فیس کے بدلہ میں جو روپے ملتے ہیں وہ جیب میں نہیں بلکہ دل میں ڈالے جاتے ہیں۔وہ شوق سے علم حاصل کرتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دُنیا میں جو نفع حاصل ہوتا ہے وہ اس نفع کے مقابلہ میں جو آخرت میں ملتا ہے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔پھر دُنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بینک کو قبل از وقت ادائیگی کر دیتا ہے تو اسے ڈسکاؤنٹ ملتا ہے مثلاً اگر ۳۰ / جولائی کو رقم واجب الادا ہے اور وہ ۳۰/ جون کو ہی ادا کر دیتا ہے تو بینک اسے آٹھ آنے یا چار آنے سینکڑہ ڈسکاؤنٹ کے بھیج دے گا۔گویا اسے قبل از وقت ادائیگی کا منافع دے گا۔یہی حال اللہ تعالیٰ کا ہے جو شخص بر وقت اور جلدی اپنا وعدہ پورا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ڈسکاؤنٹ اس کو ضرور دیتا ہے۔اگر بینک اپنے محدود مال کے ساتھ