خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 287

خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۹ء آپ نے وعظ تو بڑا کیا ہے مگر یہ تو بتاؤ کہ اگر نماز پڑھیں تو کیا ملے گا ؟ واعظ کو جلدی میں اور تو کوئی جواب نہ سوجھا اُس نے کہہ دیا کہ نماز پڑھنے سے نور ملتا ہے۔اس پر اس نے نماز شروع کر دی اور چار نمازیں پڑھیں۔صبح کی نماز کے وقت سردی بہت تھی۔اس نے سوچا کہ واعظ نے کوئی تیم کا مسئلہ بھی بیان کیا تھا سو اس وقت میں تیم کر کے ہی نماز پڑھ لیتا ہوں۔اس نے تیم کے لئے ہاتھ مارا تو اتفاقاً اس کے ہاتھ توے پر پڑے اور اس نے وہی منہ اور ہاتھ پر پھیر لئے کی اور یہ پانچ نمازیں پڑھنے کے بعد اس نے خیال کیا کہ اب مجھے نور مل گیا ہوگا۔ذرا روشنی ہوئی کی تو اس نے اپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ دیکھو کوئی نور آیا ہے یا نہیں ؟ بیوی نے اس کے چہرے کو دیکھا تو کہا یہ تو میں جانتی نہیں کہ نور کیا ہوتا ہے ہاں اگر وہ کوئی کالی کالی چیز ہوتی ہے تو پھر تو بہت ہے۔میراثی نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور وہ چونکہ براہ راست توے پر پڑے تھے اس لئے وہ بہت زیادہ سیاہ تھے اس نے کہا کہ اگر تو نور کالا ہی ہوتا ہے تو پھر تو گھٹائیں باندھ کر آیا ہے۔یہی مثال ان لوگوں کی ہوتی ہے جو خدا کی راہ میں قربانی کر کے اسی دُنیا میں بدلہ کے منتظر رہتے ہیں۔وہ پانچ نمازیں پڑھنے کے بعد توقع رکھتے ہیں کہ ان کے چہرہ پر نور کے آثار ظاہر ہوں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اس دُنیا میں تو کسی نہ کسی طرح گزارا ہو ہی جاتا ہے مگر وہ غیر محدود زندگی جہاں تمام رشتے ناطے ٹوٹ جاتے ہیں ماں کو بیٹے سے اور بیٹے کو ماں سے ، بیوی کو خاوند سے، خاوند کو بیوی سے، بھائی کو بھائی سے اور بہن کو بہن سے کسی مدد کی اُمید نہیں ہو سکتی۔وہاں کی کس طرح کام چلے گا جب ہر انسان خوف سے لرز رہا ہوگا۔وہ وقت ایسا ہو گا جب کوئی کسی کا ساتھ نہ دے گا۔اس وقت انسان کہے گا کہ کاش! کوئی چیز میرے خزانہ میں ہوتی اور آج میرے کام آتی۔جب انسان ترساں ولرزاں ہوگا، گھبرایا ہوا ہو گا ایسے وقت میں اگر خدا تعالیٰ کے فرشتے آ کر کسی سے کہیں کہ یہ زادِ راہ تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے تو یہ انعام یادہ ہے یا یہ کہ یہاں دین کی راہ میں خرچ کئے ہوئے مال کے بدلہ میں ایک ایک کے ستر ستر مل جائیں۔ہماری جماعت کے جو لوگ چندہ دیتے ہیں اس کی اوسط تین روپے فی کس بنتی ہے جسے ستر سے ضرب دی جائے تو دوسو دس روپیہ سال کے ہوتے ہیں اور سترہ روپیہ چند آنے ماہوار ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی بڑا مال نہیں۔بمبئی اور کلکتہ میں ایسے ایسے ہندوستانی