خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 286

خطبات محمود ۲۸۶ سال ۱۹۳۹ء خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے اور اسے زیادہ نہ ملے جس طرح کھیت میں بیج ڈالا جاتا ہے تو کی اس کے ایک ایک دانے سے ستر ستر دانے نکلتے ہیں اسی طرح جو شخص دین کی راہ میں قربانی کرتا ہے اُسے ایک ایک کے ستر ستر بلکہ اس سے بھی زیادہ ملتے ہیں گے مگر بعض نادان اس اُمید میں رہتے ہیں کہ انہیں ایک کے ستر اسی دُنیا میں مل جائیں حالانکہ اس دُنیا کی نعماء کی اُخروی نعمتوں کے مقابلہ میں کوئی بھی حیثیت نہیں۔اگر یہاں ایک کے ستر بلکہ سات سو بھی مل جائیں تو وہ اتنے مفید نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا اثر محدود ہو گا۔اگر انسان کی اوسط عمر ستر سال بھی کی فرض کر لی جائے جو اس زمانہ میں ناممکن ہے۔ہندوستان میں اوسط عمر تھیں بلکہ ۲۷ سال سمجھی جاتی ہے لیکن اگر بفرض محال ستر سال بھی تسلیم کر لی جائے تو یہ عرصہ اس لمبے اور غیر محد و دعرصہ کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں جو موت کے بعد شروع ہوتا ہے۔یہاں یہ نعمتیں کس کام آ سکتی ہیں اور اس محد و دعرصہ میں ان سے کیا فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص سے کہا جائے کہ تمہیں اس پڑاؤ پر آرام مل سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو تمہارے اور تمہارے بیوی بچوں کے لئے عمر بھر کے واسطے آرام کا انتظام ہو جائے۔ان دونوں میں سے تمہیں کونسا آرام پسند ہے تو ہر معقول انسان منزل پر پہنچ کر عمر بھر کے آرام کو ترجیح دے گا اور جب انسان کو ایک ایسی زندگی کے دور سے گزرنا ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے خَالِداً اور ابداً کے الفاظ استعمال کئے ہیں تو ایسی ابدی اور خلود کی زندگی کے آرام پر اس چند روزہ زندگی کے آرام کو ترجیح دینا نادانی نہیں تو اور کیا ہے مگر پھر بھی بعض نادان قر بانی کرنے کے بعد یہ اُمید رکھتے ہیں کہ انہیں اسی زندگی میں مالی صورت میں نفع ملے اور جب وہ اس سے محروم رہتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ثواب کے کاموں سے بھی محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ ایسی چیز کو بدلہ قرار دیتے ہیں جو دراصل بدلہ نہیں ہوتا۔حقیقت یہی ہے کہ اگر کسی عاقل کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ وہ اس چند روزہ زندگی کے بدلہ کو پسند کرتا ہے یا آخرت کے غیر محد ودانعامات کو تو وہ ضرور آخرت کے انعامات کو ترجیح دے گا۔جولوگ اس دنیا کے بدلہ کو ترجیح دیتے ہیں اُن کی مثال عقل کے معاملہ میں اس میراثی کی ہے جو کسی واعظ کا وعظ سننے کے لئے چلا گیا۔واعظ یہ کہہ رہا تھا کہ نماز پڑھنی چاہئے۔اُس نے یہ بات سنی تو واعظ سے کہا کہ