خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 267

خطبات محمود ۲۶۷ سال ۱۹۳۹ء ثابت کر رہی ہے کہ آپ کو کس قد رقوت حاصل ہو چکی ہے۔یہاں احرار کی طرف سے جلسہ کے انعقاد کی کوشش ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم انعمتَ عَلَيْهِمْ ہیں اور دُشمن مَغْضُوبِ اور صال کے زمرہ میں شامل ہے۔مغضوب حضرت مسیح کے منکر ہیں اور یہ لوگ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کرتے ہیں۔یہ کوئی بات نہیں کہ جھوٹا سمجھ کر انکار کرتے ہیں۔یہودی بھی تو کی حضرت مسیح علیہ السلام کو جھوٹا سمجھ کر ہی انکار کرتے ہیں اور ضآل حضرت عیسی کی طرف خدائی صفات منسوب کرتے ہیں اور یہ بھی آپ کی طرف خدائی صفات منسوب کرتے ہیں۔ان کا کی دعوی ہے کہ حضرت مسیح پرندے پیدا کرتے تھے اور غیب کی خبریں بتا دیتے تھے اور اب تک آسمان پر بغیر کھانے پینے کے زندہ ہیں اور مردہ زندہ کیا کرتے تھے اور یہ سب خدائی صفات ہیں جو یہ آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔باقی رہا یہ امر کہ یہ حضرت عیسی کو خدا کہتے نہیں یہ کوئی بات نہیں۔یہ تو ایسا ہی ہے جیسے جرمنی کا ایک بادشاہ ولیم تھا۔اُس کا ایک سفید رنگ کا گھوڑا تھا کی جس سے اُسے بے حد رغبت تھی وہ ایک دفعہ بیمار ہو گیا۔بادشاہ نے ڈاکٹروں اور درباریوں کو کی بلا یا اور حکم دیا کہ اس کا علاج کرو، اگر یہ مر گیا تو میں تم کو قتل کر دوں گا۔انہوں نے بہت کوشش کی کی لیکن آخر گھوڑ ا مر گیا۔اب سب حیران تھے کہ بادشاہ کو خبر کون دے؟ اس نے کہا ہؤا تھا کہ جس نے مجھے اس کی موت کی خبر سب سے پہلے دی اُسے فور اقتل کر دوں گا اور اگر نہ دی تو سب کی کو مروا دوں گا۔سب مشورہ کرنے لگے کہ کس کو بھیجا جائے ؟ اس کا ایک چہیتا نو کر تھا سب نے کی اُسے تجویز کیا اور اُسے کہا کہ تم جاؤ اور کسی ایسے انداز میں بات کرو کہ جس سے سب کی جانیں بچ جائیں۔وہ بہت زیرک آدمی تھا جب بادشاہ کے سامنے پہنچا تو اس نے پوچھا گھوڑے کا کیا حال ہے؟ نوکر نے جواب دیا کہ حضور بالکل آرام میں ہے۔بادشاہ نے کہا کہ کیا حالت ہے؟ اُس نے کہا حضور آنکھیں بند ہیں ، آرام سے لیٹا ہے ، حتی کہ دم تک بھی نہیں ہلا تا کامل سکون کی کی حالت ہے نہ اُس کا پیٹ ہلتا ہے اور نہ سینہ۔بادشاہ نے یہ سُن کر کہا کہ اس کے معنے ہیں کہ وہ مر گیا۔اُس نے کہا حضور یہ الفاظ میں نے نہیں کہے حضور ہی نے کہے ہیں۔تو یہی حال ان کی لوگوں کا ہے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کرتے تھے، اندھوں کو آنکھیں بخشتے تھے، مردے زندہ کیا کرتے تھے ، غیب کی باتیں جانتے تھے ، اُنیس سو سال سے