خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 255

خطبات محمود ۲۵۵ سال ۱۹۳۹ ء کے ساتھ جواب دیا کہ نہیں ہم تو احمدیوں کو بڑا وفادار سمجھتے ہیں اور وہ جو کہتے تھے کہ ہم احمدیوں کو فسادی سمجھتے ہیں اُنہوں نے ہی جب یہ کہا کہ ہم تو اُنہیں بہت اچھا سمجھتے ہیں تو ہم نے اپنے دل میں کہا کہ یہ بڑے جھوٹے آدمی ہیں۔ اِس بارہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ اس قسم کا مخفی سرکلر جو اس جاری ہوا تھا اُس وقت کے گورنر سر ایمرسن صاحب نے مجھ سے بھی کہا اور دوسرے سلسلہ کے نمائندوں سے بھی کہا کہ اس کا انہیں کوئی علم نہیں اور میں کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ ان کی بات کو غلط قرار دوں ۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ یہ سرکلر کسی ماتحت افسر کا تھا۔ ہمیں اس سرکلر کا علم اس طرح ہوا کہ ایک ڈپٹی کمشنر نے ہمارے ایک دوست کو جو اس کا بھی دوست تھا اس کی اطلاع دے دی کہ ایسی پٹھی آئی ہے کہ جماعت احمد یہ اب خراب ہو گئی ہے۔ اس کا خیال رکھا جائے مگر جب ہم نے گورنمنٹ سے اس بارہ میں دریافت کیا تو اُس نے انکار کر دیا کہ ایسا کوئی سرکلر نہیں گیا مگر خدا تعالیٰ جب پکڑتا ہے تو ایسا پکڑتا ہے کہ کوئی جواب نہیں بن پڑتا۔ اس نے ہمارے لئے یہ سامان کر دیا کہ راولپنڈی کے ایک تھانہ کی پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل ایک احمد یہ جماعت کے ہاں گیا اور کہا کہ جن لوگوں نے قادیان جانا ہے ( یہ جلسہ کا موقع تھا) وہ اپنے نام لکھوائیں ۔ حکومت کی طرف سے یہ ہدایت آئی ہے کہ جو لوگ قادیان جانا چاہیں اُن کی نگرانی کی جائے ۔ (گویا جس طرح چوہڑوں اور سانسیوں کی نگرانی کی جاتی ہے اس طرح قادیان آنے والے احمدیوں کی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا تھا ) اس جماعت نے مجھے اس کی اطلاع دی اور ہم نے حکومت کو لکھا کہ اب بتاؤ اس کا کیا جواب ہے؟ مگر اس کا کوئی جواب اس کے پاس نہ تھا وہ صرف یہ کہتے رہے کہ ہم نے کوئی ایسا آرڈر نہیں دیا اور آخر میں کہا کہ آپ اس معاملہ پر زیادہ زور نہ دیں اور بات ختم کر دیں ۔ ہم نے اس بارہ میں ضلع میں بھی تحقیق کی اور معلوم ہوا کہ اس تھا نہ میں خفیہ آرڈر آیا تھا۔ تھانیدار اتفاق سے چھٹی پر تھا اور حوالدار انچارج تھا وہ شراب کا عادی تھا اور نشہ کی حالت میں تھا ، ہدایت پر کانفیڈنشل لکھا ہوا تھا لیکن اُس نے نشہ کی حالت میں اِس کا خیال نہ کیا اور جھٹ پروانہ لے کر وہاں جا پہنچا آخر جب ہم نے بار بار اس کا جواب مانگا تو چیف سیکرٹری نے کہا کہ بس اب اس بات کو چھوڑ دیں ، زیادہ تنگ نہ کریں اور اب اِس سوال کا جواب نہ مانگیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ہماری ایسی مدد فرمائی کہ بار بار حکومت کو