خطبات محمود (جلد 20) — Page 253
خطبات محمود ۲۵۳ سال ۱۹۳۹ء بھیڑیے نے چاہا کہ اُسے کھا جائے اور اس کے لئے اس نے کوئی بہانہ تلاش کرنا چاہا وہ اوپر کی طرف تھا اور بکری نیچے کی طرف آخر اُ سے اور کوئی بہانہ نہ ملا تو اُس نے بکری سے ڈانٹ کر کہا کہ ہمارا پینے کا پانی کیوں گدلا کر رہی ہو بکری نے عاجزی سے جواب دیا کہ میں تو نیچے کی طرف ہوں آپ کے ذریعہ گدلا ہو کر پانی میری طرف آ رہا ہے نہ کہ میری طرف سے گدلا ہو کر آپ کی طرف جا رہا ہے۔اس پر بھیڑیے کو اور تو کوئی بہانہ نہ سوجھا اِس نے کہا کہ گستاخ ، بے حیا سامنے بولتی ہے اور اسے چیر پھاڑ کر کھا گیا۔اس میں شبہ نہیں کہ گورنمنٹ کے کی پاس فوج ہے، پولیس ہے، مجسٹریٹ ہیں ، جیل خانے ہیں ، وہ جسے چاہے پکڑ کر قید کرسکتی ہے مگر جس چیز پر اس کا قبضہ نہیں وہ بے انصافی کو انصاف قرار دینا ہے۔بڑے بڑے بادشاہ دُنیا میں گزرے ہیں ہمارے وزراء اور افسروں سے بہت بڑے لیکن آج تاریخ ان کے کاموں پر سختی سے فیصلہ لکھ رہی ہے۔سکولوں کے مدرس اور کالجوں کے پروفیسر کس طرح دیدہ دلیری سے آج اور نگزیب پر اعتراض کرتے ہیں۔حالانکہ وہ اتنا بڑا بادشاہ تھا کہ ان مصنفوں کی حیثیت اس کے مقابلہ میں ایسی بھی نہیں جیسی کہ ایک نمبر دار کے مقابلہ میں چوہڑے کی ہوتی ہے مگر وہ کی زمانہ گزر گیا اور بعد میں آنے والوں میں سے بعض نے اس کے افعال کو ظالمانہ اور بعض نے منصفانہ کہا۔اس پر بہت بحثیں ہوئیں اور آج ہند و مؤرخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اور نگزیب پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان میں سے اکثر غلط ہیں مگر بعض بادشاہوں کے متعلق تحقیقات صحیح تھی اور اس بات کو دُنیا نے آہستہ آہستہ تسلیم کر لیا اور آج روم کے بادشاہ نیرو اور ہلاکو خان کو ظالم قرار دیا جا رہا ہے۔وہ ایک دو افراد تھے مگر ان کی وجہ سے ساری قوم بد نام ہوئی۔پس انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ اگر جلسہ ہو اور خالص تبلیغی ہو تو احمد یوں کو ایسے تبلیغی جلسہ میں جانے سے نہ روکا جائے اور اگر کوئی ہمیں چیلنج دے تو احمدی اسے قبول کر لیں اور حکومت کی طرف سے انہیں اسے قبول کرنے سے ہرگز نہ روکا جائے لیکن اگر روکا گیا جیسا کہ پچھلی مرتبہ کیا ؟ گیا تھا تو ایسا کرنے والے تاریخی طور پر ظالم قرار پائیں گے اور ان کا اس وقت کا زور اور طاقت ان کی قوم کو بدنامی سے نہ بچا سکے گی۔اُس زمانہ میں جب پہلی دفعہ یہاں جلسہ ہوا جو ڈپٹی کمشنر تھا حکومت اس کی ہر بات کی تصدیق کرتی تھی اور ہر موقع پر یہی جواب دیتی تھی کہ