خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 240

خطبات محمود ۲۴۰ سال ۱۹۳۹ء ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ کسی دعوت میں تیرہ انگریز شریک ہو گئے ۔ اب ان میں سے ہر ایک نے چاہا کہ میں اس دعوت سے کسی طرح کھسک جاؤں تا کہ بارہ پیچھے رہ جائیں اور نحوست جاتی رہے ۔ لیکن چونکہ وہ یہ بات کھلے طور پر کہہ نہیں سکتے تھے اس لئے ہر ایک نے اپنے اپنے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ میں اس مجلس سے کھسک جاؤں گا۔ چنانچہ ایک ایک کر کے سب اس مجلس سے اُٹھ گئے اور صرف میزبان ہی پیچھے رہ گیا مہمان کوئی نہ رہا۔ تو یہ لوگ اوّل درجہ کی احمقانہ باتوں کے پیچھے چلتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی احکام نازل ہوں تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس میں یہ شرط ہے، وہ قید ہے، فلاں پابندی ہے اور فلاں سختی ہے ۔ حالانکہ وہ خود دنیوی امور میں ان پابندیوں سے بہت زیادہ خطر ناک پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ پس یا د رکھو نماز با جماعت اسلام کے اہم اصول میں سے ایک اصل ہے جو شخص بغیر بیماری اور بغیر کسی ایسی تکلیف کے نماز چھوڑتا ہے جس میں اس کا نماز با جماعت سے محروم رہنا مجبوری قرار دی جاسکے وہ نماز کو عمداً ضائع کرتا ہے اور جو قوم نماز ضائع کر دیتی ہے وہ ( الفضل ۲۰ رمئی ۱۹۳۹ء ) 66 اللہ تعالیٰ کے فضل کو کبھی حاصل نہیں کر سکتی ۔“ ا كنز العمال جلد ۷ صفحہ ۳۲۳ مطبوعہ حلب ۱۹۷۱ ء الماعون : ٥ الماعون : ٦