خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 228

خطبات محمود ۲۲۸ سال ۱۹۳۹ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مقرب صحابی تھے دینی خدمات کا اُن کو بہت شوق تھا اور ہمیشہ اس سلسلہ میں ادھر اُدھر بھیجے جاتے تھے۔ایک موقع پر اُن کا بیٹا بیمار تھا لیکن انہیں کوئی دینی کام پیش آ گیا اور وہ اُسے بیمار ہی چھوڑ کر صبح گھر سے نکل گئے بعد میں لڑکا فوت ہو گیا۔وہ شام کو گھر آئے۔ہمارے زمانہ کی کوئی عورت ہوتی تو آتے ہی ایک دو ہتر خاوند کے رسید کرتی اور ایک اپنے آپ کو مارتی کہ کمبخت تجھے کچھ پتہ ہی نہیں بچہ کا کیا حال ہے اور یا پھر برقعہ اوڑھ کر نکل کھڑی ہوتی کہ میں ایسے منحوس گھر میں رہوں گی ہی نہیں مگر اس عورت کا خاوند جب گھر آیا تو جانتے ہو اُس نے کیا کیا ؟ اُس نے آگے بڑھ کر استقبال کیا، ہنسی خوشی کھانا کھلایا اور جب خاوند نے پوچھا کہ بچہ کا کیا حال ہے؟ تو کہا کہ پہلے سے اچھا ہے کیونکہ وہ فوت ہو چکا تھا اور تکلیف کی حالت سے نکل چکا تھا۔جب مرد کھانا کھا چکا تو اُس نے چار پائیاں بچھائیں ، بستر کئے اور جب سونے لگے تو کہا کہ اگر محلہ کی کوئی عورت میرے پاس کوئی امانت چھوڑ جائے اور پھر کچھ عرصہ بعد آ کر واپس مانگے تو مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ خاوند نے کہا کہ یہ کیا بے ہودہ سوال کی ہے؟ امانت امانت والے کے حوالہ کرنی چاہئے اور کیا کرنا چاہئے؟ تب اُس نے کہا کہ اچھا ہمارے پاس بھی اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اُس نے واپس لے لی ہے۔اس کی بجائے اگر وہ روتی پیٹتی تو ممکن تھا اگلے روز خاوند کی توجہ ہی خدمت دین سے ہٹ جاتی اور وہ کہتا کہ خدمت تو کی مگر گھر میں چین نہیں اب کچھ توجہ گھر کی طرف بھی کرنی چاہئے مگر اُس نے ایسا نمونہ کی پیش کیا کہ اُس کا یہی خیال ہوا ہوگا کہ میں جتنی بھی خدمت کروں کوئی ڈر نہیں۔گھر میں ایک کی محافظ موجود ہے۔پس عورتیں اگر اندرونی ذمہ داریاں برداشت کریں تو مرد آزادی کے ساتھ باہر جاسکتا اور خدمت کر سکتا ہے اور عورتوں میں بیداری اور دینی روح کا پیدا کرنا اشد ضروری ہے۔وہ مرد کبھی کامل نہیں ہو سکتا جس کی بیوی اُس کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہو لیکن ایک کمزور بھی زیادہ قربانی کر سکتا ہے اگر اُس کی بیوی اُس کا ہاتھ بٹانے والی اور دل بڑھانے والی ہو اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے لئے میں نے تجویز کی ہے کہ عورتوں کے نام ایک خط لکھوں اور وہ وعدہ کریں کہ دینی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں وہ اپنے خاوندوں کے ساتھ تعاون کریں گی اور اس کے ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ لجنہ اماءاللہ یا جہاں لجنہ نہ ہو وہاں مرد جلسے کر کے