خطبات محمود (جلد 20) — Page 225
خطبات محمود ۲۲۵ سال ۱۹۳۹ء اس لئے میرے واسطے کوئی خطرہ بھی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جد و جہد کرنے والے کے لئے اگر ایک فی صدی امکان بھی باقی ہو تو وہ اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے نناوے فیصدی امکانات تباہی کے ہوں اور ایک بچاؤ کا ہو تو بھی وہ ضرور کوشش کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ممکن ہے یہی ایک میرے لئے مقدر ہو اور میں بچ جاؤں۔میں نے بتایا تھا کہ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے ذرائع کی طرف بھی توجہ کرنا ضروری ہے اور جب تک ہم عورتوں اور بچوں کو ساتھ نہ ملائیں کا میاب نہیں ہو سکتے۔عورتیں اور بچے ہی ہیں جن کی محبت کی وجہ سے انسان اپنے اوپر بوجھ اُٹھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔بچہ جب بلبلا کر ایک چیز کی خواہش کر رہا ہو تو انسان کا دل رنجیدہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ چاہے مجھ پر بوجھ ہی کیوں نہ ہو جائے اس کی خواہش پوری کر دوں یا اگر بیوی اصرار کے ساتھ کسی چیز کی خواہش کرے تو مرد کہتا ہے کہ چلو اِس کا دل کیا دکھانا ہے۔یہ تعلق چونکہ محبت کے ہوتے ہیں اس لئے کی یہ مردوں پر زیادہ بوجھ کا باعث ہو جاتے ہیں۔یورپ میں تو ایسا نہیں ہوتا وہاں تو بوجھ کلبوں اور شرابوں کی وجہ سے ہوتا ہے وہاں تو لوگ شادیاں کرتے ہی نہیں لیکن ہمارے ملک میں لوگ زیادہ تر بیوی بچوں کی وجہ سے زیر بار ہوتے ہیں۔اس لئے جب تک وہ مدد نہ کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔بعض اوقات ایک انسان نیک ہوتا ہے اور کچی خواہش رکھتا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے لیکن اس کی بیوی اتنی سخت اور شَدِیدُ البطش ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے کی روپیہ اس کے کہنے کے مطابق خرچ نہ کیا تو وہ لڑائی دنگا کرے گی اور اس طرح میری بے عزتی بھی ہوگی۔تو بچوں کی محبت اور عورتوں سے بعض ڈر اور بعض محبت کی وجہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے لیکن میں نے بتایا تھا کہ ہماری عورتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے اخلاص میں اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ بہت ہی کم ایسی ہیں کہ اگر ان کے سامنے دین کی ضرورت کو رکھا جائے تو وہ تعاون کرنے اور ہاتھ بٹانے کے لئے تیار نہ ہوں۔سینکڑوں عورتیں ایسی ہیں جو مردوں سے بھی زیادہ کی دین کا جوش رکھتی ہیں اور ایسی بھی ہیں جو مردوں کو مجبور کرتی ہیں کہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔دوسری قوموں میں ایسی مثالیں بہت ہی کم ہیں۔کئی سال ہوئے میں نے تحریک کی تھی کہ عورتوں کو تحریک کی جائے کہ وہ چندوں کی وصولی میں مدد کریں۔اس پر ایک جماعت نے لکھا کہ