خطبات محمود (جلد 20) — Page 208
خطبات محمود ۲۰۸ سال ۱۹۳۹ء جنہیں سن کر پرانی نسلوں کے مسلمان واہ واہ اور سبحان اللہ کہیں اگر وہ بھی مدرسوں کی کرسیوں پر بیٹھیں ، اگر وہ بھی کالج کے پروفیسر بنیں ، اگر وہ بھی اپنی قوم کے لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں تو وہ اس ذلت کے نام کو اپنے ساتھ رہنے دیں گے یقیناً یہ نام پیچھے رہ جائے گا اور وہ قوم ترقی کی منزلوں کی طرف بڑی سرعت سے قدم بڑھاتی ہوئی چلی جائے گی ۔ پس ہماری جماعت کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ اپنے لوگوں کو صرف نام کا مسلمان نہ بنائے بلکہ ان کے لئے علمی ، اخلاقی ، تمدنی اور اقتصادی ترقی کے سامان مہیا کرے کیونکہ سب سے زیادہ تعلیم کے یہی لوگ مستحق ہیں اور سب سے زیادہ مجبور بھی یہی ہیں۔ ان میں اتنے لکھے پڑھے لوگ نہیں کہ یہ دوسروں کی مدد کے بغیر اپنی قوم کے افراد کو پڑھا سکیں ۔ پس ہمیں سب سے پہلے ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے ۔ خدام الاحمدیہ کی طرف سے مجھے بتایا گیا ہے کہ ان کے زیادہ قریب دارالرحمت والے ہیں اور وہ محلہ دارالرحمت کے رہنے والوں سے خواہش کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملہ میں ان کی مدد کریں اور دارالصحت والوں کو پڑھائیں ۔ میں بھی اس موقع پردارالرحمت کے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں بلکہ میں سمجھتا ہوں دارالرحمت کے لوگوں کی تخصیص کی اس میں ضرورت نہیں ۔ یہ ایک ثواب کا کام ہے اور ثواب کے کام کے لئے دور سے بھی لوگ آ سکتے ہیں ۔ پس دوسرے محلوں سے بھی جو دوست یہ ثواب حاصل کرنا چاہتے ہوں اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنی خدمات پیش کر کے یہ عظیم الشان ثواب حاصل کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے بن جائیں کہ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گئے یہ تو میں نام کے لحاظ سے بیشک آزاد ہیں مگر حقیقتاً غلام ہیں اور غلاموں کو آزاد کرانا مومنوں کے عظیم الشان فرائض میں سے ایک فرض ہے ۔ پس میں خدام الاحمدیہ کو بھی توجہ دلاتا ہوں اور جماعت کے دوسرے دوستوں کو بھی کہ وہ اس محلہ کی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ کریں مگر اس تعلیم کے علاوہ جو دوسری تعلیم ہے یعنی اعلیٰ مذہبی اور دنیوی تعلیم اس کی طرف بھی ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور میں اس کے لئے صدر انجمن احمد یہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بعض خاص وظیفے ایسے مقرر کرے جن سے اس قوم کے لڑکوں کو زیادہ اعلیٰ تعلیم دلائی جا سکے۔ خالی پڑھنا لکھنا سکھا دینا کافی نہیں بلکہ اس قوم کی مجموعی حالت کو درست