خطبات محمود (جلد 20) — Page 209
خطبات محمود ۲۰۹ سال ۱۹۳۹ء کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان میں اعلی تعلیم رائج کی جائے۔جب ان لوگوں میں سے بعض کی نو جوان ایف اے اور بی اے ہو جائیں گے ، بعض مذہبی لحاظ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں گے اور کی وہ اپنے گھر کے افراد اور اپنی قوم کے افراد پر اثر ڈالیں گے تو لازماً ان کی حالت پہلے سے بہت سُدھر جائے گی ، وہ اپنے گھروں کو اچھا بنائیں گے ، وہ ان میں صفائی کا زیادہ خیال رکھیں گے، وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں گے اور اس طرح قوم کا علمی عقلی اور تمدنی معیار بہت بلند ہو جائے گا مگر یہ کام خدام الاحمدیہ کا نہیں۔میں اس کے متعلق صدر انجمن احمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تی ان کے لئے بعض وظائف مقرر کرے اور اگر اس سال زیادہ وظائف مقرر نہ کئے جاسکیں تو کی کم از کم ایک وظیفہ اس سال دار الصحت کے کسی بچے کو تعلیم دلانے کے لئے ضرور جاری کر دینا چاہئے۔چاہے اُس بچے کو بورڈنگ میں ہی رکھنا پڑے تا کہ اُس کا اخلاقی معیار بھی بلند ہو اور اُس کی ذہنی ترقی بھی ہو۔پس وہ ایک سے تجربہ شروع کریں اور جوں جوں اس میں کامیابی ہوتی چلی جائے ان کی وظائف کو زیادہ کرتے چلے جائیں۔اگر صد را انجمن احمد یہ یہ کام شروع کر دے تو تھوڑے عرصہ میں ہی عظیم الشان تغیر پیدا ہو سکتا ہے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو میں سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی کمینگی ہوگی کہ ہم نام میں تو ان لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیں مگر ان خوبیوں میں شامل نہ کریں جو قومی طور پر خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہیں۔پھر میں اُن تمام لوگوں سے خواہش کرتا ہوں جن کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ پڑھے ہوئے نہیں کہ وہ اس کام میں حصہ لیں اور ہماری مدد کریں۔یہ محض ان کے فائدہ کی سکیم ہے جو جاری کی گئی ہے۔اگر ان کے اوقات کا حرج بھی ہو تو وہ اس حرج کو گوارا کر کے اپنی تعلیم مکمل کر لیں۔چھ مہینے انسان کی زندگی میں سے کوئی بڑا عرصہ نہیں۔لوگ ہر سال دو دو تین تین مہینوں کے لئے تبدیلی آب و ہوا کے لئے باہر چلے جاتے ہیں اور اس عرصہ میں لازماً اُن کے کا موں کو نقصان پہنچتا ہے مگر وہ کوئی پروا نہیں کرتے۔قادیان سے ہی ہر سال پانچ سات آدمی گرمی کے ایام میں کشمیر یا پالم پور چلے جاتے ہیں اور وہ اس عرصہ میں جب تک باہر رہتے ہیں کوئی خاص کام نہیں کرتے۔اگر اُن کی یہاں تجارت ہوتی ہے تو تجارت چھوڑ جاتے ہیں،