خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 186

خطبات محمود ۱۸۶ سال ۱۹۳۹ء کامیاب نہیں ہوسکتا۔کسی کو دو آنے دینے والا جب تک اپنے خرچ میں کمی کر کے اُسے چھ آ نہ پری نہیں لے آتا اپنے وعدہ کو پورا نہیں کر سکتا اور آٹھ آنہ میں سے آٹھ آنہ ہی خرچ کرنے کے بعد بھی جو کسی کو دو آنہ دینے کا وعدہ کرتا ہے وہ جھوٹا اور فریبی ہے مخلص نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو بھی اور سلسلہ کو بھی دھوکا دیتا ہے۔پس قُربانی کے لئے یہ امر اشد ضروری ہے کہ عورتوں اور بچوں کو اپنا ہم خیال بنایا جائے۔میں نے اس امر کی طرف کئی بار توجہ دلائی ہے مگر افسوس کہ اس طرف توجہ نہیں کی گئی بلکہ ان کو یہ تحریک پہنچائی ہی نہیں گئی۔حتی کہ اس سال ایک اچھی بڑی اور کی مخلص جماعت کی عورتوں نے حلفیہ بیان کیا کہ پچھلے سالوں میں ہمارے مردوں نے ہمیں بتایا ہی نہیں کہ ایسی تحریک جاری ہے۔یہ اچھی بڑی جماعت ہے اور سو ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل ہے مگر اس کی عورتوں نے حلفاً بیان کیا ہے کہ انہیں اس تحریک سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا۔تو جو لوگ ایسے سُست ہوں وہ کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں؟ کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ عورتیں اور بچے ہمارے ہم خیال ہوں۔جب تک ہمیں پیچھے کھینچنے والی کوئی چیز ہے ہم آگے کس طرح جا سکتے ہیں۔ہم جب آگے قدم اُٹھا ئیں گے ہمارے بیوی بچے پیچھے سے کھینچیں گے کہ ادھر آؤ مگر افسوس ہے کہ میری اس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے دوست ایسی گھبراہٹ میں ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں۔اگر وہ وعدے کریں تو مشکل ہے اور نہ کریں تو مشکل ہے۔حالانکہ یہ سب باتیں میں نے شروع میں ہی بتا دی تھیں اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائی تھیں کہ آئندہ ہمارے لئے قربانیوں کا وقت آنے والا ہے اور اسی لئے میں نے امانت کی بھی تحریک کی تھی اور جن لوگوں نے اس پر عمل کیا۔وہ اپنے وعدے اچھی طرح پورے کر سکے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ ایک غریب دوست نے جن کی آمد بارہ چودہ روپیہ ماہوار سے زیادہ نہیں سو روپیہ چندہ دے دیا اور یہ اس طرح کہ وہ ہر ماہ تین روپیہ امانت فنڈ میں جمع کراتے گئے اور اس طرح چار سال میں سو سے اوپر روپیہ جمع کر لیا اور اب بھی کئی لوگ جو امانت فنڈ میں روپیہ جمع کراتے رہے چندے آسانی سے ادا کرنے کے قابل ہو گئے ہیں جبکہ ان سے کئی گنا زیادہ تنخواہیں پانے اور آمد رکھنے والے ابھی ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں۔کئی دوستوں نے مجھے لکھا ہے کہ ہم دس دس اور پندرہ پندرہ سال سے مکان بنانا چاہتے تھے مگر