خطبات محمود (جلد 20) — Page 158
خطبات محمود ۱۵۸ سال ۱۹۳۹ء آپ ہر ایک کو انعام نہ دیا کریں بلکہ قید لگا دیں کہ صرف اُسی شاعر کو انعام دوں گا جو کم سے کم ایک لاکھ شعر سنا سکتا ہو۔بادشاہ نے یہ مان لیا اور اعلان ہو گیا کہ جب تک کسی شاعر کو کم سے کم ایک لاکھ شعر یاد نہ ہو وہ دربار شاہی میں باریابی حاصل نہ کر سکے گا۔اب لاکھ شعر کا یاد کرنا ہر ایک کے لئے تو مشکل ہے کسی کو پانچ ہزار، دس ہزار یاد ہوتے ، کسی کو بہیں ہزار، کسی کو تھیں یا چالیس ہزار اور اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام اُدباء اور شعراء کو موقع نہیں مل سکتا تھا اور وہ بھو کے مرنے لگے۔ان کو خیال آیا کہ اس طرح تو ملک کے علم ادب کو نقصان پہنچے گا اس زمانہ میں وہاں ایک بہت بڑے اور مشہور ادیب تھے۔سب اکٹھے ہو کر اُن کے پاس پہنچے اور کہا کہ اس سے مُلک کے علم ادب کو بہت نقصان پہنچے گا اس لئے آپ بادشاہ سے ملیں اور اس بات پر آمادہ کریں کہ ایک لاکھ کی تعداد میں کمی کر دے۔وہ بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔بادشاہ نے کی ان کو بعض دفعہ بلوایا بھی تھا مگر اُنہوں نے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ اپنی ذات میں اپنے آپ کو ادب کا بادشاہ سمجھتے تھے مگر یہ چونکہ ایک ادبی خدمت تھی اس لئے وہ بادشاہ سے ملنے کے لئے تیار ہو گئے۔چنانچہ وہ گئے اور اطلاع کرائی۔دربانوں نے نام پوچھا مگر اُنہوں نے نام بتانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ایک شاعر ملنا چاہتا ہے۔دربانوں نے کہا کہ شاعروں کے لئے یہ شرط ہے کہ انہیں کم سے کم ایک لاکھ شعر یاد ہونا چاہئے پہلے درباری امتحان لیں گے اور اگر کوئی ایک کی لاکھ شعر سنا سکے تو اُسے باریابی کا موقع دیا جائے گا ورنہ نہیں۔اُنہوں نے پیغامبر سے کہا کہ جا کر بادشاہ سے پوچھو کہ وہ کون سے ایک لاکھ شعر سننا چاہتا ہے؟ اسلام کے زمانہ کے یا زمانہ جاہلیت کے؟ مردوں کے یا عورتوں کے؟ میں ہر قسم کے ایک ایک لاکھ شعر سُنانے کو تیار ہوں۔جب بادشاہ کو یہ اطلاع پہنچی تو وہ سمجھ گیا۔انہی کا نام لیا اور کہا کہ وہی ہوں گے۔ننگے پاؤں بھاگ آیا اور کہا کہ فرمائیے کیا خدمت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کے اس حکم سے مُلک پر یہ ظلم ہو رہا ہے کہ اس کے ادب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اس شرط کے ہوتے ہوئے کوئی خاص شاعر ہی باریاب ہو سکتا ہے اور جو اتنا بڑا ادیب ہوا سے آپ کی مدد کی کیا احتیاج ہو سکتی ہے اور وہ دربار میں کیوں آئے گا؟ اِسے تو گھر بیٹھے ہی روزی ملے گی اس لئے اسے منسوخ کر دیں۔بادشاہ نے کہا بہت اچھا میں اسے منسوخ کرتا ہوں اور جب یہ شرط لگا ئی تھی تو میرا ایک مقصد