خطبات محمود (جلد 20) — Page 132
خطبات محمود ۱۳۲ سال ۱۹۳۹ ء یا بزدلی اس کی محرک تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے سارے ملک کے انتظام پر نگاہ ڈالی اور اُنہوں نے محسوس کیا کہ ابھی ہمارے اندر کئی قسم کی خامیاں ہیں اور اگر ہم اس وقت لڑ پڑے تو ہماری شکست کا خطرہ ہے ۔ پس وہ بز دلی یا بے غیرتی کی وجہ سے پیچھے نہیں ہٹے جیسا کہ غلطی سے سمجھا جاتا ہے بلکہ اُنہوں نے جب اپنے انتظام پر نگاہ دوڑائی تو اُنہیں اپنے انتظام میں بعض نقائص اور خلل نظر آئے اور اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت لڑنا ٹھیک نہیں ۔ بے شک ان کے پاس جنگ کا سامان بھی کم تھا مگر جیسا کہ بعض مدبرین نے کہا ہے اگر جنگ میں وہ گود پڑتے تو وقت پر تمام سامان مہیا کیا جا سکتا تھا مگر اُنہوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے تمام سامان مہیا بھی کر لیا تب بھی ہمارا نظام ابھی ایسا مکمل نہیں کہ ہم اس سامان سے پورا فائدہ اُٹھا سکیں ۔ پس اُنہوں نے دانائی سے کام لے کر جنگ کے خطرہ کو دور کر دیا لیکن اگر کوئی ایشیائی ہوتا تو وہ ایسے موقع پر سوائے اس کے اور کچھ نہ کہتا کہ غیرت ، غیرت ، کود پڑو اور مر جاؤ۔ حالانکہ قوم کا صرف مر جانا ہی کام نہیں ہوتا بلکہ فتح پانا بھی کام ہوتا ہے۔ تو ہمارے نو جوانوں کو ذہین بننا چاہئے اور اُن کی نظر وسیع ہونی چاہئے ۔ وہ جب بھی کوئی کام کریں اُنہیں چاہئے کہ اس کے سارے پہلوؤں کو سوچ لیں اور کوئی بات بھی ایسی نہ رہے جس کی طرف اُنہوں نے توجہ نہ کی ہو۔ یہی نقص ہے جس کی وجہ سے میں نے دیکھا ہے کہ روحانیات میں بھی ہمارے آدمی بعض دفعہ فیل ہو جاتے ہیں اور وہ شکایت کرتے رہتے رہ ہیں کہ ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر ہمیں خدا تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں ہوتی حالانکہ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ صرف نمازیں پڑھنے سے خدا تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا نہیں ہو سکتی اور نہ اُس کا قرب انسان کو حاصل ہو سکتا ہے۔ حقیقی دین تو ایک مکمل عمارت کا نام ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم مکمل عمارت کا فائدہ صرف ایک دیوار سے حاصل کرنا چاہتے ہو۔ تم خود ہی بتاؤ ، اگر کسی قلعہ کی تین دیوار میں توڑ دی جائیں اور صرف ایک دیوار باقی رہنے دی جائے تو کیا اُس دیوار کی وجہ سے اُس قلعہ کے اندر رہنے والا محفوظ رہ سکتا ہے یقیناً جب تک اُس کی چاروں دیوار میں مکمل نہیں ہوں گی اُس وقت تک اُس قلعہ کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب محض نمازوں کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اور جس قدرا حکام اسلام ہیں اُن سب پر عمل کرنے کے