خطبات محمود (جلد 20) — Page 130
خطبات محمود الله۔ سال ۱۹۳۹ ء اپنے ہمراہ نہیں لائے تھے اور یہ خیال ہی نہیں آیا کہ دریافت تو کر لیا جائے یہ صندوق ہے کس کا ؟ اگر وہ ذہانت سے کام لیتے تو اُنہیں چاہئے تھا کہ وہ اُس صندوق کو بھی اُٹھاتے اور مجھ سے پوچھتے کہ یہ کس کا ہے؟ جب وہ میرے کمرہ میں پڑا ہوا تھا تو بہر حال میرا ہی ہو سکتا تھا۔ اگر وہ مسافروں کا وہاں سامان ہوتا تب تو شبہ ہو سکتا تھا کہ یہ سامان شاید میرا ہے یا اس کا مگر جب ا سامان ہوتا ہے ان کمروں میں ہم ہی ہم تھے تو کسی کی عقل ماری ہوئی تھی کہ وہ اپنا اسباب اُٹھا کر ہمارے کمرہ میں رکھ دے یا گھر سے ٹرنک لا کر ہمارے ٹرنکوں میں ملا دے۔ پھر وہ کہنے لگے ہم نے سمجھا شاید یہ جماعت والوں کا اسباب ہے۔ حالانکہ اول تو ہم ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور وہاں جماعت کا سامان کسی طرح نہیں آ سکتا تھا لیکن اگر بالفرض ان کے نزدیک یہ کسی جماعت کے دوست کا ہی صندوق تھا تو بہر حال انہیں یہ تو سمجھنا چاہئے تھا کہ اب ہم نے دوبارہ اس ہوٹل کے کمرہ میں نہیں آنا ۔ پس انہیں چاہئے تھا وہ اس صورت میں بھی اُس صندوق کو اُٹھاتے اور جہاز تک لا کر دریافت کرتے کہ یہ کس احمدی کا صندوق ہے؟ اس طرح بات بھی کھل جاتی اور چیز بھی ضائع نہ ہوتی کیونکہ اگر بالفرض وہ کسی احمدی بھائی کا سامان ہوتا تو بھی اُس کی حفاظت ہمارے ذمہ تھی کیونکہ وہ ہمارے کمرہ میں تھا اور انہیں چاہئے تھا کہ دونوں صورتوں میں وہ اسباب اُٹھاتے اور ساتھ لے جاتے مگر جب میں نے ناراضگی کا اظہار کیا تو کہنے لگے خیال ہی نہیں آیا اور یہی جواب ہے جو ہر ہندوستانی غلطی کے موقع پر دیا کرتا ہے اور جب اس سے بھی زیادہ ناراضگی کا اظہار کیا جائے تو دوسرا قدم وہ یہ اُٹھاتا ہے کہ کہہ دیتا ہے غلطی ہو گئی معاف کر دیجئے ۔ میں چاہتا ہوں کہ خدام الاحمد یہ اپنے کام میں اس امر کو بھی مد نظر رکھیں اور نو جوانوں کے ذہنوں کو تیز کریں ۔ ہم نے بچپن میں جو سب سے پہلی انجمن بنائی تھی اُس کا نام تشخیذ الا ذہان تھا۔ یعنی ذہنوں کو تیز کرنے کی انجمن ۔ اس کے نام کا تصور کر کے بھی میرا ایمان تازہ ہو جاتا اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے کہ انبیاء کے ذہن کیسے تیز ہوتے ہیں اور کس طرح وہ معمولی باتوں میں بڑے بڑے جاتاہے کہ تیز یا اہم نقائص کی اصلاح کی طرف توجہ دلا دیتے ہیں کہ آج ایک وسیع تجربہ کے بعد جو بات