خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 119

خطبات محمود ۱۱۹ سال ۱۹۳۹ ء برداشت نہیں کر سکتا ۔ رسوئیا کے آکر دروازہ میں کھڑا ہو گیا اور پوچھنے لگا کہ کس کو کتنی کچوریاں چاہئیں ۔ دو چاہئیں ایک یا پونی یا آدھی یا پاؤ ؟ اتنی احتیاط تھی کہ جسے پاؤ کی ضرورت ہے اُسے آدھی نہ چلی جائے تا باقی پاؤ ضائع نہ ہو اور پھر وہ وہیں سے ہر ایک کے آگے جتنی وہ مانگتا پھینک دیتا تھا اور نشانہ اُس کا واقعی قابل تعریف تھا۔ میں نے تو کہہ دیا کہ مجھے تو کوئی ضرورت نہیں ۔ تو جس صفائی سے وقت ضائع ہو یا محبت میں فرق آئے یا انسانی تعلقات میں فرق آئے وہ جائز نہیں اور یہ پہلومیں نے اس لئے واضح کر دیا ہے کہ کوئی غلو میں اِس طرف نہ نکل جائے اور تیل، کنگھی ، چوٹی اور سرمہ کے استعمال کو ہی صفائی نہ سمجھ لیا جائے ۔ یہ صفائی نہیں ہے ۔“ الفضل ۱۷ مارچ ۱۹۳۹ء ) 1 - وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ ، وَ أَتَيْتُمْ إِحْدَ لَهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا، آتَا خُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (النساء: (٢) ٢ - وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ، هَذَا مَا كَنَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْذِرُونَ ( التوبه : ۳۴، ۳۵) ٣- بخارى كتاب المظالم باب مَنْ أَخَذَ الْغُصْنَ (الخ) - مسلم كتاب الطهارة باب النَّهُ عَنِ التَّخَلِي فِي الطُّرُقِ (ال) ۵- حزقی ایل باب ۴ آیت ۱۲ تا ۱۵ ۔ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لندن ۱۸۸۷ء - بخارى كتاب الرقاق باب كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَصْحَابِهِ رسوئیا: باورچی ۔ کھانا پکانے والا ۔ برہمن