خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 109

خطبات محمود ۱۰۹ سال ۱۹۳۹ ء اُٹھا لیتے ہیں ۔ جب میں ولایت میں گیا تو میرے ساتھی باوجود یکہ غرباء کے طبقہ میں سے ہی تھے امراء تو ہم میں ہیں ہی نہیں سب غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنا اسباب اُٹھانے سے گھبراتے تھے۔ جب میں فرانس میں سے گزرا تو امریکہ کے کچھ لوگ میرے ہم سفر تھے وہ دس بارہ آدمی تھے جو یورپ کی سیر کرنے کے لئے آئے تھے ۔ ان کے تموّل کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے ہوٹلوں میں ٹھہرتے تھے جہاں پندرہ بیس روپیہ روزانہ فی کس خرچ ہوتا ہے اور اس طرح میرا اندازہ ہے کہ اُن کا کھانے پینے کا خرچ چار پانچ ہزار روپیہ ماہوار ہو گا ، کرائے الگ تھے ۔ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کرتے تھے اور اس طرح پندرہ میں ہزار روپیہ ان کا کرایوں وغیرہ پر بھی خرچ ہوا ہو گا اور اس طرح میرا اندازہ ہے کہ ان کا کل خرچ ساٹھ ستر ہزار روپیہ ہوا ہو گا جس سے ان کے تمول کا حال معلوم ہو سکتا ہے لیکن جب وہ گاڑی سے اُترے تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک دو دو تین تین گٹھڑیاں اور بکس اُٹھائے جا رہا ہے مگر ہمارے دوستوں کی یہ حالت تھی کہ مجھے تو انہوں نے کہہ دیا کہ آپ چلئے ہم اسباب لاتے ہیں ۔ میں ان کی باتوں میں آ گیا اور آگے چلا آیا مگر بہت دیر ہو گئی اور کوئی نہ آیا۔ جہاز کے افسر نے بھی مجھے کہا کہ آپ سوار ہوں جہا ز بالکل روانہ ہونے کے لئے تیار ہے مگر میں نے کہا کہ ابھی تو میرے ساتھی اور اسباب نہیں آیا۔ آخر میں واپس آیا اور وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ اسباب اُٹھانے کے لئے قلی نہیں ملتے اور ہمارے دوست حیران تھے کہ کیا کریں؟ اس وقت اتفاقاً کچھ آدمیوں کا انتظام سٹیشن والوں نے کر دیا اور کچھ سامان ہمارے بعض دوستوں نے اُٹھایا اور اس طرح جہاز پر پہنچے ۔ جب ہم لنڈن پہنچے تو دوسرے روز ہی مجھے معلوم ہوا کہ ہماری پارٹی میں اختلاف ہے۔ بعض چہروں سے بھی ناراضگی کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ میں نے تحقیقات کی کہ اس کی وجہ کیا ہے تو معلوم ہوا کہ جب گاڑی سے اُترے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ سامان مکان کی چھت پر پہنچانے کے لئے قلیوں کی ضرورت ہے مگر قلی ملتے نہیں ۔ چوہدری سر ظفر اللہ خان صاحب اُن دنوں وہاں تھے اور ہمارے ساتھ ہی ٹھہرے تھے اور مکان کے انتظام کے لئے پہلے سے مکان میں آگئے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ جب اُنہوں نے یہ حال دیکھا تو اپنے ایک جرمن معزز دوست کے ساتھ مل کر اُنہوں نے اسباب او پر پہنچانا شروع کیا جس پر بعض اور دوست